خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 388

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۸۸ خطبہ جمعہ ۹؍جون ۱۹۷۸ء پس ہم تو عیسائیوں سے کہتے ہیں ہمارے ساتھ محبت کے ساتھ اور آشتی کے ساتھ اور صلح کی فضا میں تبادلۂ خیال کرو۔جہاں تک مذہب کا سوال ہے اس کا تعلق انسان کے دل اور دماغ کے ہے۔ساتھ ہے جسے انگریزی میں Heart اور Mind کہتے ہیں ان کے ساتھ مذہب کا تعلق۔انسان دوسرے کا دل جیتتا ہے پیار کے ساتھ اور Mind جیتا ہے دلائل اور نشانات کے ساتھ۔پس اسلام میں حسن واحسان بھی بڑا ہے اور اس کی تعلیم میں صداقت اور شوکت بھی بڑی ہے اور اس کی صداقت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کے جو نشان ظاہر کرتا ہے اس کی عظمت کے سامنے تو کوئی دوسری چیز بھہر نہیں سکتی۔غرض ایک قدم ہم نے اور اُٹھایا۔ہماری نسل جو آج زندہ ہے اور جوان ہے اور ذمہ داریوں کو اُٹھائے ہوئے ہے ان کو پتا نہیں اس میدان میں کتنے اور قدم اٹھانے پڑیں گے۔اس کے بعد پھر دوسری نسل آجائے گی اور پھر اگلی نسل آجائے گی۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی کہا ہے کہ میرے اندازہ کے مطابق جماعت احمدیہ کی جو دوسری صدی ہے جو غلبہ اسلام کی صدی ہے یعنی ہماری جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی میں وہ تمام وعدے جو غلبہ اسلام کے لئے کئے گئے تھے وہ انشاء اللہ پورے ہوں گے اور وہ عظیم مجاہدہ جو بعثت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شروع ہوا تھا وہ اپنے انتہائی عروج کو پہنچ جائے گا اور اسلام ہر طرف پھیل جائے گا لیکن یہ سمجھنا کہ جون کی پانچ تاریخ ہمارے لئے سو جانے کا دن تھا صحیح نہیں وہ ہمارے لئے سو جانے کا دن نہیں تھا۔۳/۲ اور ۴ جون کو ہماری کانفرنس تھی اور پانچ کو پھر ہمارے لئے مجاہدہ کا دن ہے آرام کا دن نہیں تھا۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے سکھ اور آرام اور چین کا وہ دن ہو گا جب دُنیا کی بڑی بھاری اکثریت کے دل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جیت لئے جائیں گے اور دُنیا کے ہر گھر پر توحید کا جھنڈا لہرا رہا ہوگا۔پس تم دعائیں کرو اور اپنے مقام کو پہچانو اور جو ذمہ داریاں ہیں اُن کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے دن گزارو اور عاجزی سے خدا سے یہ دعا کرو کہ وہ آپ کو بھی اور مجھے بھی اپنی رضا کی