خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 387
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۸۷ خطبہ جمعہ ۹/جون ۱۹۷۸ء پر غالب آئے گا اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو گا اور ایک ہی خدا ہو گا جس کی پرستش کی جائے گی اور ایک ہی پیشوا ہو گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کی عظمت اور جلال کے ترانے گائے جائیں گے۔یہ جو ہماری کانفرنس ہوئی ہے یہ بھی اسی جہاد کا ایک حصہ ہے۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ۳/۲/ ۴ جون کو ہماری کانفرنس ہوئی اور ۵/ جون کو ساری دنیائے عیسائیت نے اسلام کو قبول کر لینا ہے۔یہ ایک اور قدم ہے جو آگے بڑھا ہے۔امت محمدیہ نے تبلیغی میدان میں خدائی وعدوں کے مطابق جتنے قدم آگے بڑھائے ہیں اُن میں سے ہر قدم پر مخالفین کی زندگی میں ایک موافق اسلام حرکت پیدا ہوتی رہی ہے اور ان کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا جاتا رہا ہے۔شروع سے آخر تک ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آہستہ آہستہ عظیم تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔یہ ایک بہت لمبا مضمون ہے اس کے لئے ساری صدیوں پر غور کرنا پڑے گا۔ہم جب اپنے زمانہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اسلام نے عیسائیوں کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب اور تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ایسے ہی جیسے کسی چیز کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جائے اسی طرح غیر مذاہب کی حالت ہو گئی ہے لیکن ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ہم آرام کریں اور سمجھ لیں کہ جو کام ہم نے کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔ابھی ہماری کئی نسلوں کو خدا اور خدا کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی۔ابھی کئی میدانوں میں ہمیں ادیان باطلہ کا مقابلہ کرنا پڑے گا دلائل کے ساتھ بھی اور آسمانی نشانوں کے ساتھ بھی اور قبولیت دعا کے ساتھ بھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض Challenges ( چیلنجز ) کو مسیحی دنیا کے سامنے دہرایا تھا۔یہ ۱۹۶۷ء کی بات ہے ابھی تک اُنہوں نے چیلنج قبول نہیں کیا۔تین سال ہوئے ڈنمارک کے ایک صحافی ربوہ آئے تو اُن سے میری بات ہوئی تھی۔کہنے لگے پادری کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے بڑی سختی کی تھی۔میں نے کہا میں نے سختی تو کوئی نہیں کی تھی۔میں نے تو اُن کو یہ کہا تھا کہ آؤ مقابلہ کر لو۔خدا تعالیٰ آپ ہی فیصلہ کر دے گا کہ وہ کس کے ساتھ ہے اور کس کے ساتھ نہیں ہے۔وہ کہنے لگا اچھا یہ بات ہے میں جا کر اُن کی خبر لیتا ہوں۔یہ تو مجھے علم نہیں کہ اُس نے خبر لی یا نہیں لی لیکن اس کے دماغ پر یہ اثر ضرور تھا کہ اس کو سختی نہیں کہا کرتے۔