خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 312
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۱۲ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء تو گل رکھنا چاہیے اور اسی کو سہارا بنانا چاہیے۔وَسَبِّحْ بِحَمدِہ اور وہ ذات تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔کوئی حقیقی خوبی نہیں جو خدا تعالیٰ میں موجود نہ ہو اور کوئی نقص نہیں جو خدا تعالیٰ میں پایا جاتا ہو۔ہر عیب اور نقص اور کمزوری سے وہ پاک ہے اور وہ اس بات سے بھی پاک ہے کہ صفاتِ حسنہ میں سے کوئی صفت ایسی ہو جو اس میں نہ پائی جائے۔وہی ہستی ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور وہی ہستی ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔وہ مقدس ذات ہے تمام تعریفیں اسی کی ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں اور اگر کہیں بھی واقعہ میں اور حقیقی طور پر کوئی ایسی خوبی نظر آئے جو تعریف کے قابل ہو تو وہ بھی اسی کی عطا ہے اور و کفی به بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا اگر کہیں کوئی کمزوری یا عیب یا کبھی نظر آئے تو اسی کی ذات ہے جو اس کو دور کر سکتی ہے اور وہ عَلَامُ الْغُيُوبِ خدا ہی جانتا ہے کہ کون اور کتنا کوئی شخص گناہ میں ملوث ہو گیا ہے۔الزام تراشی تو انسان انسان پر کرتے ہی رہتے ہیں اور عیب جوئی بھی کرتے ہیں لیکن عیب ہے بھی یا نہیں اور گناہ ہے بھی یا نہیں اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ گناہ وہی ہے جو خدا کو نا پسند ہے اور نیکی وہی ہے جو اس کی نگاہ میں نیکی ہے اور جو چیز خدا کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہے اس سے اسی سے پناہ مانگی جاسکتی ہے اور جو چیز خدا کی نگاہ میں گناہ ہے اسی کی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ سکتی ہے۔ہم ہمیشہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔اس جلسہ کے موقع پر بھی جماعت نے اس پر تو گل کیا۔ہزار روکیں موجود تھیں اور ہزار روکوں کا خطرہ بھی تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے جماعت کو اس قدر تعداد میں خدا کی رضا کے لئے اور اس کی باتیں سننے کے لئے تا کہ نفوس کی اصلاح ہو اس جلسہ میں شامل ہونے کی توفیق دی۔مستورات کا اندازہ ہے کہ پچاس ہزار سے زیادہ مستورات جلسہ میں شریک ہوئیں اور عام اندازہ ہے کہ جلسہ میں شمولیت کرنے والوں کی تعداد بشمولیت احباب ربوہ ایک لاکھ چالیس ہزار اور پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی۔گویا ڈیڑھ لاکھ کے قریب تعداد پہنچ گئی ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس سے