خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 311
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۱ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہزاروں روکوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا جلسہ بہت کامیاب رہا خطبه جمعه فرموده ۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت تلاوت فرمائی:۔وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا - (الفرقان : ۵۹) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اس ہستی پر تو گل کرنا چاہیے اور اسی کو اپنا سہارا بنانا چاہیے کہ جوحی ہے اور جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔اگر ایسی ہستیاں ہوں جن پر موت وارد ہوسکتی ہے اور ان پر کوئی شخص تو گل کرے تو کہا نہیں جاسکتا کہ اس کے کام کرنے سے پہلے ہی ان پر موت وارد ہو جائے۔اس لئے ایسی ہستی پر توکل کرنا چاہیے کہ جو الحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ہے جو زندہ ہے اور رود زندگی بخش ہے۔الکی کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ وہ ہستی خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور دوسرے یہ کہ اس کے حی ہونے کی صفت کا اگر جلوہ نہ ہو اور اس کا حکم نہ ہو تو کوئی اور وجود زندہ نہیں رہ سکتا۔پس جس کے سہارے سے ہم زندہ ہیں اور وہ زندہ ہستی جس پر کبھی موت نہیں آسکتی اسی پر ہمیں