خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 313
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۳ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء بہت سی باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔جب تعداد زیادہ ہوگئی تو یہ خطرہ بھی زیادہ ہو گیا کہ کچھ غفلتیں ہوئی ہوں گی، کچھ مستیاں ہوئی ہوں گی، کچھ تکالیف پہنچی ہوں گی ، کچھ شکایتیں پیدا ہوئی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انہیں دُور کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی ہے جو ان کے بداثرات سے افرادکو اور جماعت کو بچاسکتا ہے۔ایک چیز جو نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے وہ مکانیت کی کمی ہے۔مزید تعمیر ہونی چاہیے۔کچھ مہمان خانے خاص طور پر جلسہ سالانہ کے لئے بن رہے ہیں۔کچھ جلسہ سے پہلے بن چکے تھے کچھ باقی رہتے تھے وہ اگر مکمل بھی ہو جائیں تب بھی ہماری ضرورت پوری نہیں ہو سکتی وہ ضرورت جسے اجتماعی رہائش گا ہیں پورا کیا کرتی ہیں۔اس کے علاوہ دوست یہاں مکان بناتے رہتے ہیں۔اگلے جلسہ سالانہ تک انشاء اللہ اور مکان بنیں گے اللہ تعالیٰ ان مکانوں میں بھی برکت دے۔اس سے کچھ کمی اور پوری ہو جائے گی مگر پھر بھی اس دوڑ میں کہ مکان زیادہ بنتے ہیں یا مہمان زیادہ آتے ہیں مہمانوں نے ہی جیتنا ہے۔یہی ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیشہ مکان کی تنگی رہے گی۔مکان اگر مکانیت کے لحاظ سے دُگنے ہو جا ئیں تو مہمان دُگنے سے زیادہ ہو جائیں گے یعنی تین لاکھ سے آگے نکل جائیں گے۔یہ تو ایک نہ سمجھ آنے والا معجزہ ہے۔میں افسر جلسہ سالانہ بھی رہا ہوں اور اب بھی میرے پاس دن میں کئی بار رپورٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں کچھ پتا نہیں لگتا کہ اتنی بڑی مخلوق سماتی کہاں ہے خدا تعالیٰ ہی انتظام کرتا ہے ورنہ اگر ہم کاغذ پر اندازے لگا ئیں تو اتنی بڑی مخلوق ربوہ کے اندر نہیں سماسکتی مگر سماتی ہے۔تکلیف بھی اٹھاتے ہیں ،سردی نے بھی تکلیف دی ہوگی ، بے آرامی نے بھی تکلیف دی ہو گی لیکن وہ سما جاتے ہیں اور بشاشت کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ جماعت کا ہر مرد و عورت جلسہ سالانہ میں تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے اور اپنے رب پر توکل کرتا ہے۔ہر ایسی تکلیف کی بہتر جزا اسے مل جائے گی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے۔جلسہ گاہ قریباً بھر گئی تھی اس لئے یہ بھی فکر کرنی چاہیے کہ اس کو ہم کس طرح اور کس حد تک بڑھا کر کتنے سالوں تک گزارہ کر سکتے ہیں خصوصاً زنانہ جلسہ گاہ میں بڑی تکلیف ہوگئی ہے۔ان