خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 202

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء نیکیوں پر قائم ہو جاؤ گے تو تمہارے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔دوسرا خیال جو ایمان لانے والے انسان کے دماغ میں آسکتا ہے اور آنا چاہیے اور میں سمجھتا ہوں کہ روحانی ترقیات کے لئے بڑا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ میں انسان ہوں کمزور انسان ہوں ، بشری کمزوریاں میرے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔کوشش کے باوجود بھی غفلت اور سستی کے لمحات بھی میری زندگی میں آئیں گے، کچھ گناہ مجھ سے سرزد ہو جا ئیں گے، کچھ نیکیاں مجھ سے چھوٹ جائیں گی تو میرا حشر کیا ہو گا۔کیا ایمان لانے کے بعد بھی مجھے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا ؟ خدا تعالیٰ نے اسی جگہ یہ اعلان کر دیا کہ اگر تم نیک نیتی سے اور پوری توجہ کے ساتھ نیکیوں پر قائم ہو گے تو تمہاری نیکیاں اپنی جگہ پر ہوں گی لیکن تمہاری جو غلطیاں اور گناہ اور قصور ہیں وہ اللہ تعالیٰ سب معاف کر دے گا اور اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں لپیٹ لے گا۔اس لحاظ سے بھی ایک مومن کے لئے آپ رحمت بن کر آئے۔تیسرا سوال جو ایک سمجھ دار انسانی دماغ سوچے گا یہ ہے کہ اگر میں اسلام لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ یہ بڑا ضروری سوال ہے انسانی فراست اور انسانی عقل یہ سوال کرتی ہے کہ اگر میں اسلام لے آؤں۔اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤں۔اگر میں قرآن کریم کو سچی کتاب سمجھ لوں اور اس پر عمل کروں تو مجھے ملے گا کیا؟ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کو ہمارے لئے اسوہ بنا يا لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَ ذكر الله كثيرا (الاحزاب : ۲۲) اور یہ اعلان کر دیا کہ میں نے ایک مثال سامنے رکھ دی ہے یہ ہے ہمارا بندہ ، ہر لحاظ سے ہمارا ، کامل اور مکمل انسان ! جس نے اپنی ساری روحانی استعدادوں کی کامل نشو نما پانے کی ہمارے فضل سے توفیق پائی ہے، یہ تمہارے سامنے کامل نمونہ ہے۔ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) تم اس کی اتباع کرو تو تمہیں تمہاری استعدادوں کے مطابق وہی کچھ مل جائے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی استعدادوں کے مطابق خدا سے ملا۔اس کو ہم محاورہ میں کہتے ہیں کہ اتنا ملنا کہ Overflow (اوورفلو ) کر جائے۔برتن چھلک جائے۔اتنا ہو کہ جھولی میں نہ سما سکے۔خدا تعالی تو اتنا دیتا ہے کہ اگر انسان صحیح