خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 203
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۰۳ خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء راستہ پر گامزن ہو تو اس کی استعداد کے مطابق اس کو سب کچھ مل جاتا ہے اور کوئی کمی نہیں رہتی۔یہ تو اصول ہے نا۔ملتا کیا ہے؟ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کے مطابق جو سب کچھ ملتا ہے وہ سب کچھ ہے کیا ؟ پہلے تو کہا کہ سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں رحمت ہیں کہ اگر انسان آپ کی اتباع کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عشق اسے بخشا جائے گا اور معرفتِ الہی کے بعد خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے گی اور اس کے نتیجہ میں اسی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ غیر اللہ سے کامل رہائی حاصل ہو جائے گی اور جو تکیہ کیا جاتا ہے کسی شے پر یا کسی انسان پر یا کسی جتھے پر یا کسی سیاسی اقتدار پر یا کسی حکومت پر یا کسی بین الاقوامی تنظیم پر اس کا کوئی سوال نہیں رہے گا بلکہ غیر اللہ سے پوری رہائی مل جائے گی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا عشق انسان کے دل میں پیدا ہو جائے گا۔تو محبت اور عشق کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ غیر اللہ سے رہائی حاصل ہو جائے گی اور دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ کو پہچاننے کے بعد، خدا تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے بعد ، اس کی محبت دل میں پیدا ہو جانے کے بعد انسان گناہوں سے نجات حاصل کر لے گا، گناہ پر جرات نہیں کرے گا۔ہمارا دماغ ہمیں یہ پوچھتا ہے کہ ہمیں اور کیا ملے گا ؟ خدا کہتا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں جنت مل جائے گی۔محض جنت نہیں بلکہ اس دنیا میں تمہیں پاک زندگی اور جنت ملے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے تم نکالے جاؤ گے اور روحانی زندگی تمہیں بخشی جائے گی۔پس اس معنی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں۔ہر شے کے حقوق کی تعیین کی اور ان کی حفاظت کا سامان کیا۔ہر شے کے حقوق کی جب تعیین کی اور ان کی حفاظت کی تو ان کے لئے رحمت بن گئے۔ہر جاندار کے حقوق کی تعیین کی اور ان کے حقوق کی حفاظت کی اور ہر جاندار کے لئے آپ رحمت بن گئے۔پھر کا فرو مومن ہر انسان کے حقوق کی تعیین کی اور ان کی حفاظت کی۔مسلمان کے غصے سے بھی غیر مسلم کو بچایا، ایک مسلمان کے ہاتھ کے ظلم سے بھی ایک غیر مسلم کو بچایا اور کہا کہ اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو تم عدل اور انصاف کو نہیں چھوڑو گے۔اس لحاظ سے آپ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ہیں۔پھر جولوگ اسلام لائے ، جو مسلمان ہو گئے ، جن کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تھا اور