خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 201
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء گالی نہیں دینی ، ان کے خداؤں کو بھی گالی نہیں دینی۔شرک ہے یہ اتنا بڑا ظلم ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ ان کے بتوں کو بھی گالی نہیں دینی۔پس اسلام نے انسان کے حقوق بھی قائم کئے ہیں اور انسان کے حقوق کی حفاظت بھی کی ہے۔میں نے چند مثالیں دی ہیں ورنہ سارا قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے۔میں جب ۱۹۶۷ ء میں لندن گیا تو ایک جگہ کچھ غیر مسلم اکٹھے ہوئے تھے اور مجھے وہاں تقریر کرنی پڑی۔میں نے سوچا کہ ان کو یہی باتیں بتاؤں۔چنانچہ میں نے ۱۰،۸ با تیں لیں اور ان کو بتایا کہ تم اگر چہ اسلام پر ایمان نہیں لاتے مگر اسلام پھر بھی تمہارے جذبات کی اور تمہارے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کو مثالیں دے کر بتایا۔اسلامی تعلیم بہر حال مؤثر ہے اور اس کا ان پر اثر ہوا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے جان چیزوں کے لئے بھی رَحْمَةٌ لِلعلمین ہیں اور جانداروں کے لئے بھی اور کافروں کے لئے بھی رَحْمَةٌ لِلعلمین ہیں اور مومنوں کے لئے بھی۔اب ہم انسانی حقوق سے آگے بڑھ کر اور بلند ہو کر روحانی حقوق میں داخل ہوتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی میدانوں میں انسان کے لئے اس قدر روحانی ترقیات کے دروازے کھولے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔روحانی ترقیات میں پہلی بات جو انسان کا دماغ سوچتا ہے مثلاً اگر کسی عیسائی یا ہندو کو اسلام کی صداقت سمجھ آ جائے تو پہلی بات وہ یہ سوچے گا کہ پچاس سال میری عمر ہو گئی میں بتوں کو پوجتا رہا ، شرک کرتا رہا، کبیرہ گناہ میں نے کئے ، لوگوں کے میں نے حقوق مارے، انسانوں پر ظلم کئے، بداخلاقیاں کیں ، غلط طریق سے مال اکٹھے کئے ،شود کے ذریعہ سے پیسہ سمیٹا، اس قدر گناہ ہیں کہ ان کا کوئی شمار نہیں۔گناہوں کی یہ گٹھڑیاں اٹھا کر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤں تو میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ مومن کا ، ایمان لانے والے کا پہلا سوال زبان حال سے یہی ہے۔چنانچہ اعلان کر دیا قل يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں اس لئے تمہیں کوئی خوف نہیں ہے۔اگر تم ایمان لے آؤ، سچی تو بہ کر لو، اگر تم یہ عہد کر لو کہ آئندہ ان گناہوں کو ترک کر دو گے اور اسلام کی بتائی ہوئی