خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 125

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۲۵ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ء اس کو یا کسی اور کو اس زمانہ میں یا کسی اور زمانہ میں سکھائے کیونکہ اس کی ذات میں اور اس کے علم میں تضاد نہیں ہے اور اس کی سکھائی ہوئی تعلیم میں بھی تضاد پیدا نہیں ہوسکتا۔جس کو یہ چیز مل گئی ، خدا تعالیٰ کی رحمت جس کی معلم بن گئی اس کو کامیابی کی ہر کلید مل گئی۔آج صبح میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک چھپی ہوئی کتاب میرے سامنے پڑی ہے اس کا جو سر ورق ہے یعنی پہلا صفحہ جس پر نام لکھا ہوتا ہے اس کا اوپر کا حصہ تو میری نظر نے نہیں پکڑا لیکن اس کے نیچے فارسی کا ایک بڑا عجیب شعر ہے وہ شعر مجھے بھول گیا لیکن اس کے بعض الفاظ مجھے یاد ہیں اور مفہوم پوری طرح یاد ہے۔وہ شعر نوریست سے شروع ہوتا ہے اور پہلا مصرع ختم بھی نوریست پر ہوتا ہے۔پہلے مصرع کے معنی یہ ہیں کہ نور تو وہ نور ہے جو ایسے شخص کو ملے جو اپنے نفس پر ، اپنی ذات پر ایک موت وارد کرتا ہے اور فنا فی اللہ ہو جاتا ہے وہ نور ، نہ کہ سعی بسیار، کلید کامرانی ہے یہ دوسرے مصرعے میں ہے۔دوسرے مصرعے کے شروع میں سعی بسیار اور آخر میں کلید کامرانی“ ہے۔انسانی تدابیر اور انتہائی کوشش کامیابی کی چابی نہیں ، کامیابی کی چابی یہ ہے کہ اپنے اوپر ایک موت وارد کر لینے کے بعد ، فنافی اللہ ہو جانے کے بعد انسان کو ایک نور عطا ہو جائے۔پھر وہ جس میدان میں بھی قدم اٹھاتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے۔اس آیت کے معاً بعد جو دوسری آیت ہے یعنی ربنا لا تزغ قُلُوبَنَا اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ دیکھو اتنی عظیم کتاب اتنی شاندار کتاب اتنی وسعتوں والی کتاب کہ جس کی حکومت بعثت نبوی سے اور نزولِ قرآن سے لے کر قیامت تک پھیلی ہوئی ہے سج دل لوگ اس کو بھی اپنی اور دوسروں کی (جس پر ان کا اثر ہوتا ہے) ہلاکت کا باعث بنا دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو علم حاصل کیا جائے اس کے سوا باقی ہر چیز متشابہ نہیں بلکہ مشتبہ ہے اور بلندیوں کی طرف لے جانے والی نہیں بلکہ گہرائیوں میں گرانے والی ہے۔اور یہاں جو ذ کر ہے کہ جن کے دلوں میں بھی ہے، وہ وہ لوگ نہیں ہیں جو اسلام پر ایمان ہی نہیں لائے بلکہ ایمان لانے کے بعد کبھی پیدا ہوئی اور یا پھر ان کی سابق کبھی دور نہیں ہوئی ، دونوں شکلیں ہوتی ہیں۔اتنی عظیم کتاب ہے اور وہ ان کے دلوں کی