خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۴ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ء مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةُ إِلَّا الله - خدا نے اعلان کر دیا کہ متشابہات کی تفسیر خدا کے سوا اور کوئی جانتا ہی نہیں۔کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں اپنی عقل یا فراست سے قرآن کریم کی آیت متشبهت یعنی متشابہ آیات کی تفسیر کر سکتا ہوں۔کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةُ إِلَّا الله سوائے خدا تعالیٰ کے ان کی تاویل کوئی نہیں جانتا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انسانوں میں سے وہ گروہ جو میرے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے وہ گروہ جو علم میں کامل دستگاہ رکھنے والا ہے۔الرسخُونَ فِي الْعِلْمِ بطونِ قرآنی کو جانتے ہیں۔یہ اعلان کیا خدا تعالیٰ نے کہ اللہ کے سوا کوئی جانتا نہیں اور جو علم میں کامل دستگاہ رکھنے والے ہیں وہ بطونِ قرآنی کو جانتے ہیں۔اور ساتویں بات ہمیں یہ پتہ لگی کہ وہ اس لئے جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ اسرار روحانی سیکھتے ہیں۔وہ اس کلام پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ محل من عِندِ ربنا اور ان کا یہ اعلان ہوتا ہے کہ ہم اپنی طرف سے تفسیر نہیں کر رہے بلکہ ان ایت مُتشبهت کی تفسیر خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے اور تب ہم بتاتے ہیں۔کوئی انسان اپنی طاقت سے اپنے زور سے اپنی فراست اور اپنی عقل سے ایت متشبهت کی صحیح تفسیر بیان ہی نہیں کرسکتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے اوپر نازل ہو اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں وہ یہ تفسیر سیکھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں وہ راسِخُ فِي الْعِلْمِ بن جائے۔خدا تعالیٰ سے علم حاصل کرنے کے لئے قرآن پر کامل ایمان ضروری ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کامل نہیں وہ شخص اللہ تعالیٰ سے تفسیر سیکھ ہی نہیں سکتا۔امنا بِہ ہم اس کلام پر ایمان لائے۔ہم ایمان لائے کہ یہ کامل کتاب ہے اور اس بات پر بھی ایمان لائے کہ حا مِنْ عِنْدِ ربنا یعنی جو ایت محکمت ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو ایت مُتشبِھت ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور وہ ذات وہ ہستی جس کی ذات اور صفات میں کوئی تضاد نہیں پایا جا تا اس کے کلام میں بھی کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔اس بات پر وہ ایمان لاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو ایسے معانی سکھاتا ہے جو قرآن کریم کے دوسرے حصوں سے متضاد نہیں۔وہ تفسیر نہ ایت محکمت سے متضاد ہے اور نہ ایک متشبهت کے ان دیگر معانی سے متضاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے