خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 557

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۵۷ خطبه جمعه ۲۹/ دسمبر ۱۹۷۸ء دنیا میں تائب ہو جائیں، تو بہ کر لیں اور اصلاح کرلیں۔پس اگر اس اعلان کے بعد کہ وہ مرتد ہوتے ہیں اور اسلام کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں اگر اس کی سزا قرآن کریم کی تعلیم میں قتل کرنا ہوتا تو پھر اِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَاَصْلَحُوا اُن کے پاس تو بہ اور اصلاح کا کوئی وقت ہی نہ ہوتا۔یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس زندگی میں مرتے دم تک یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ تو بہ کر لیں اور اصلاح کرلیں اور دائرہ اسلام میں واپس آجائیں اور اسلام کو دوبارہ قبول کر لیں اور خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہیں۔اگر ان کی دعا قبول ہو جائے تو پھر وہ خدا جو غَفُورٌ رَّحِیم ہے وہ ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا اور ان کو معاف کر دے گا اور ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے گا اور ان کو پھر سے اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے گا۔اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد کفر کی راہوں کو اختیار کرے اور اسے تو بہ اور اصلاح کا موقع نہ ملے یعنی اسے زندہ نہ رکھا جائے اور اسے یہ موقع نہ ہو کہ وہ اپنی مرضی سے تو بہ کرے اور اپنی مرضی سے وہ اصلاح کرے تو خدا تعالیٰ کے غفور رحیم ہونے کی صفت اس کے لئے گویا معطل ہوگئی۔اس سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ أَمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء : ۱۳۸ ) اور جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔پھر کفر میں اور بھی بڑھ گئے۔اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں کوئی نجات کا راستہ دکھا سکتا ہے۔اس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام میں داخل ہو۔اسلام کے دائرہ میں داخل ہونے کا ہر دروازہ ہر انسان کے لئے کھلا ہے اور اس آیت میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ہر انسان کے لئے یہ ممکن ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے جتنے بھی دروازے ہیں وہ ان میں سے جس دروازے میں سے چاہے باہر نکل جائے اور اپنے کفر کا اور ارتداد کا اعلان کر دے۔جس طرح دائرہ اسلام کے اندر آنے کے لئے راہیں کھلی تھیں اسی طرح دائرہ اسلام سے باہر جانے کے دروازے بھی اس کے لئے کھلے ہیں۔اب