خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 558

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۵۸ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ باہر چلا گیا تو کیا پھر اس کے لئے یہ ممکن ہے اور اسلامی تعلیم اس بات کی اسے اجازت دیتی ہے کہ وہ تو بہ کرے اور واپس اسلام کے اندر آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں۔اگر وہ دوبارہ ایمان لانا چاہے تو کوئی روک نہیں۔چنانچہ دوبارہ ایمان لانے کے بعد بھی وہ یہ اعلان کرے کہ وہ مرتد ہوتا ہے اور اسلام کو چھوڑتا ہے اور خدا اور اس کے رسول کا انکار کرتا ہے تو اس پر کوئی جبر نہیں۔غرض ایک شخص ایمان لاتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ انکار کر دیتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد اسے دوبارہ ایمان لانے کی توفیق مل جاتی ہے اور وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے دوبارہ ایمان لانے میں کوئی روک نہیں۔دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے دروازے اس پراسی طرح کھلے ہیں جس طرح پہلے کھلے ہوئے تھے۔پھر وہ سال دو سال تک مسلمان رہا اس کے بعد پھر اس کی بدبختی آئی اور دوسری بار مرتد ہو گیا اور خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا۔دوسری دفعہ اسلام سے باہر نکلنے کی بھی اسے اجازت ہے کوئی روک نہیں۔کوئی جبر نہیں کیونکہ آزادی ضمیر بھی ہے اور آزادی عقیدہ بھی ہے۔پھر جب وہ دوسری بار اسلام کا انکار کرتا ہے اور اسے تو بہ کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور وہ کفر میں بڑھتا چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگوں کی مغفرت نہیں ہو گی اور ان لوگوں کو نجات کی راہ نہیں ملے گی۔ایسے لوگ روحانی کا میابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔پس اس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ایک شخص ایمان لاتا ہے اورا اپنی مرضی سے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اسلام کی صداقت کو تسلیم کرتا ہے۔اسلام کا نور اس پر عیاں ہو جاتا ہے اور وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خدا واقع میں واحد و یگانہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے عبد اور رسول ہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔اور کلمہ طیبہ مسلمان بنانے کے لئے کافی ہوتا ہے اور پھر قبل اس کے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو یعنی اس کی موت ایمان کی حالت میں واقع ہو تم كَفَرُوا کی رو سے اس کی بدقسمتی ہے کہ اس نے اسلام کا انکار کر دیا اور جس دروازے سے وہ اسلام میں داخل ہوا تھا اسی دروازے سے وہ باہر نکل گیا کیونکہ اس کی آزادی دی گئی تھی اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ گیا اور اس کے اوپر زمانے پر زمانہ