خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 548

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۴۸ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کہ اچھی فصلیں اگاؤ تو وہ اچھی فصلیں اگا دیتے ہیں۔کبھی خدا کہتا ہے کہ میں اس خطہ ارض سے ناراض ہوں تو زمین میں فصلیں نہ اگنے سے وہاں قحط کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ وہی زمین جو پہلے انسان کے کھانے کا سامان پیدا کر رہی تھی اب اس میں کچھ بھی نہیں اگتا اور لوگ قحط کا شکار ہو جاتے ہیں۔اسلام دین فطرت ہے اس لئے جہاں تک انسان کا تعلق ہے انسانی زندگی میں جبر کا تصور خدا تعالیٰ کے اس منصوبے کے خلاف ہے جو اس کائنات کے بنانے میں پنہاں ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی بات انسان سے بھی جبر آمنوا تا تو ایک انسان اور جانور میں کوئی فرق نہ رہتا یا ایک انسان اور درخت یا انسان اور ایک پتھر میں کوئی فرق نہ رہتا۔پس اسلام چونکہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے اس لئے وہ آزادی ضمیر اور آزادی عقیدہ کے متعلق ایک ایسی حسین تعلیم دیتا ہے جو دنیا کے لئے ایک بے مثال نمونہ ہے۔دنیا میں صرف ایسے مذاہب ہی نہیں جو مذہب کے نام پر جبر کرتے ہیں یا جبر کو روا رکھتے ہیں بلکہ ایسے اِزم بھی ہیں یعنی بہت سے ایسے فلسفیانہ اصول و تصورات بھی ہیں جو آزادی ضمیر کے خلاف تعلیم دیتے ہیں۔وہ جبر کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں لیکن اسلام مذہب کے نام پر جبر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام نے اس سلسلہ میں ایک نمونہ قائم کیا ہے جو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید ہے اور اسلامی نمونہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان سے کہا دیکھو ! اسلام دین فطرت ہے۔اسلام ایک ایسا دین ہے جو کامل کتاب کا حامل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ایک کامل کتاب آگئی۔اس سے زیادہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی اور کوئی کتاب نہیں۔اس سے زیادہ انسان پر احسان کرنے والی اور کوئی ہدایت نہیں۔اس سے زیادہ انسان کو خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں دکھانے والی دنیا میں اور کوئی تعلیم نہیں۔یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے قرب الہی کے سارے کے سارے دروازے انسان پر کھول دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود خدا تعالیٰ کہتا ہے ہم اس اسلام کے تعلق میں بھی جبر روا نہیں رکھتے ، جبر کی تعلیم نہیں دیتے ، جبر کو درست تسلیم نہیں کرتے ، جبر کو برا سمجھتے ہیں اور آزادی ضمیر اور مذہبی آزادی کا