خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 549
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۴۹ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء اعلان کرتے ہیں اور آزادی ضمیر اور آزادی عقیدہ کی ضمانت دیتے ہیں۔اس مضمون کے مختلف پہلو ہیں جو قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرنے سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ یونس میں فرماتا ہے۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ ( يونس: ۱۰۹) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے۔الحق یعنی کامل صداقت تمہارے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔اسلامی تعلیم کی شکل میں اور قرآن کریم کی شکل میں کامل ہدایت دے دی گئی ہے۔پس اب جو کوئی شخص قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایت کو اختیار کرے تو وہ اپنی جان ہی کے فائدہ کے لئے ہدایت کو اختیار کرتا ہے اور جو اس راہ سے بھٹک جائے تو اس کا بھٹکنا بھی اس کی جان پر ہی ایک وبال ہوگا اور خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔تم نے خود اپنے لئے بھلائی کا سامان پیدا کرنا ہے یا اپنے لئے خدا تعالیٰ کے قہر کا ا سامان پیدا کرنا ہے۔غرض ہدایت سے کسی کا فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری نہیں ہے یہ ذمہ داری ہر نفس نے خود اٹھانی ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہدایت کی ہر راہ یعنی ہر وہ راہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہے، اس کی نشاندہی قرآن کریم میں کر دی گئی ہے۔فرمایا الحق آگیا ہے اس پر چلنا اپنی مرضی سے یہ ہر انسان کا کام ہے یا اس راہ کو اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کرنا اپنی مرضی سے یہ بھی ہر انسان کا کام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ کوئی ذمہ داری ہے اور نہ آپ اس سلسلہ میں کسی پر کوئی جبر کر یں گے۔پھر سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔قف وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمُ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا (الكهف :٣٠)