خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 547
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۴۷ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء آزادی ضمیر اور آزادی عقیدہ کے متعلق اسلام کی حسین تعلیم خطبه جمعه فرموده ۲۹/ دسمبر ۱۹۷۸ء بمقام جلسہ گاہ مردانہ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے ہر دو جہان کو پیدا کیا ہے۔ایک نقطۂ نگاہ سے یہ مخلوق دوحصوں میں بٹ جاتی ہے۔ایک بڑا حصہ تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کی منشا کے مطابق اعمال بجالاتا ہے۔اسے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ اس کے مطابق کرتا ہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جسے اختیار دیا گیا ہے کہ اگر چاہے تو اپنے خدا کی بات کو مانے اور اگر چاہے تو اپنے رب کی بات ماننے سے انکار کر دے۔یہ دوسری قسم کی مخلوق انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزادی دی گئی ہے۔انسان کے علاوہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے۔ہر چیز وہی کچھ کرتی ہے جس کا اللہ تعالیٰ اسے حکم دیتا ہے۔فرشتوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل : ۵۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھا ہے کہ اس تعریف کے لحاظ سے انسان کے علاوہ ہر چیز ہی فرشتہ ہے اس معنی میں کہ انہیں جو کچھ کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔ہواؤں کو حکم ہوتا ہے وہ حکم مان رہی ہیں۔درختوں کو حکم ہوتا ہے پتے گرادو ایک خاص موسم میں تو وہ پتے گرا دیتے ہیں۔کھیتوں کو حکم ہوتا ہے کبھی یہ