خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 510
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۱۰ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۸ء خدا تعالیٰ سے یہ کہو کہ اے خدا! اگر تو چاہے تو دے دے۔یہ بندے کا کام نہیں۔بندے کا کام ہے مانگنا۔اس نے کوئی زبر دستی تو نہیں لینا۔اللہ جل شانہ تو بادشاہ ہے اس کی مرضی ہوگی تو دے گا۔مرضی نہیں ہوگی تو نہیں دے گا لیکن شرطیں لگانا شوخی ہے اور بہت بُری حرکت ہے۔مانگو ہر چیز اس سے مانگو۔بڑی بھی مانگو اور جوتی کا تسمہ بھی مانگو۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ جوتی کا تسمہ بھی اس سے مانگو تو یہی کہانا کہ ہر چیز اسی سے مانگو اور اس کے بغیر نیکی کا پہلو اور جنت کے حصول کا پہلو اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پالینے کا پہلو پیدا نہیں ہوتا۔پس اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے دعائیں کرو۔آپ کا پیسہ خرچ نہیں ہوتا، کوئی بار آپ پر نہیں پڑتا۔دنیا کے جو کام آپ کر رہے ہیں کرتے رہیں لیکن کام کرتے ہوئے بھی آپ ذکر الہی میں مشغول رہیں۔بڑی برکتیں آپ پر ، آپ کے گھروں پر ، آپ کے خاندانوں پر، آپ کے بچوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوں گی اگر آپ اپنی یہ عادت بنالیں۔یہاں پر بھی اور بہت سی جگہوں پر یہ کھول کر بتایا گیا ہے کہ دعا کے بغیر ایک عارف کو زندگی میں کوئی مزہ نہیں مل سکتا۔جو شخص خدا تعالیٰ کو پہچانتا ہے اس کی تو لذت اسی میں ہے کہ وہ ہر چیز خدا سے مانگے۔کھائے تو سیری خدا سے مانگے۔یہ نہیں کہ میں نے دو روٹیاں یا دس روٹیاں پیٹ میں ڈال لی ہیں اس لئے میری بھوک مر جائے گی۔دس روٹیاں کھا کر وہ خود بھی مرسکتا ہے۔صرف بھوک تو نہیں مرا کرتی۔ایسے بھی بہت سے واقعات ہماری نظروں کے سامنے آتے ہیں۔پس ہر کام جو آپ کرتے ہیں اس میں دعا مانگیں مثلاً وکیل ہے وہ وکالت کے کاموں میں دعا مانگے کہ اے خدا ! وکالت کے ساتھ بہت ساری خرابیاں لگی ہوئی ہیں تو ہمیں ان سے محفوظ رکھ اور ہمیشہ سچ بولنے کی اور قول سدید کہنے کی توفیق عطا کر۔ڈاکٹر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بڑا ظالم ہے وہ طبیب جو اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا۔میں نے شروع میں بتایا تھا کہ ہماری زندگی کا ہر شعبہ اور ہم ہر وقت جو کام کرتے ہیں وہ بغیر دعا کے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔سوؤ تو دعا کرو، جاگو تو دعا کرو، لقمہ منہ میں ڈالو تو دعا کرو، بچوں کے منہ میں لقمہ ڈالو تو اونچی آواز میں دعا کرو تا کہ ان کو بھی عادت پڑے اور ان کو بھی بچپن سے یہ بات سمجھ آ جائے۔