خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۸ء نہیں، ایک دن کی دعا نہیں، ایک مہینے یا ایک سال کی دعا نہیں بلکہ عَلى صَلَاتِهِمْ دَابِسُونَ۔جو لوگ دائمی طور پر اس نکتے کو سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اس قدر عظیم صلاحیتوں کے باوجود جو ہمیں دی گئی ہیں اور اس کے باوجود کہ دنیا کی ہر چیز کو ہمارا خادم بنایا گیا ہے خدا سے خیر اور بھلائی نہیں پاسکتے۔پس ہماری زندگی کی بنیاد نیکی اور صلاح اور تقویٰ اور خیر کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ہے اور خدا بڑا پیار کرنے والا ہے۔اس نے دعا کو مختلف چیزوں یا اوقات یامکان سے باندھ نہیں دیا کہ ان بندھنوں سے باہر دعا نہیں کی جاسکتی بلکہ دعا ہر وقت کی جاسکتی ہے اور ہر جگہ کی جاسکتی ہے سوائے مجبوری کے۔پانچ وقت نماز با جماعت پڑھنے کا حکم ہے اس میں بھی دعا کی جاسکتی ہے۔سنتیں اور نوافل گھروں میں پڑھتے ہوئے بھی دعا کی جاسکتی ہے۔کھانا کھاتے ہے۔ہوئے بھی دعا کی جاسکتی ہے اور کرنے کا حکم ہے۔بسم اللہ کہ کر کھانا شروع کرو اور الْحَمْدُ لِلَّهِ پڑھتے رہو اور اس حمد پر ہی ختم کرو۔کپڑے پہنتے ہوئے بھی دعا ہے، جوتی پہنتے ہوئے بھی دعا ہے اور اتارتے ہوئے بھی دعا ہے۔غسل خانے میں جاتے ہوئے بھی دعا ہے اور وہاں سے نکلتے ہوئے بھی دعا ہے۔کوئی پہلو ہماری زندگی کا ایسا نہیں، کوئی کام جو ہم چوبیس گھنٹے میں کرتے ہیں ایسا نہیں جس کے ساتھ دعا نہ ہو۔کوئی نہ کوئی کام ہم ہر وقت کرتے ہیں ان کے ساتھ ایک تو وہ دعائیں ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمایاں طور پر ہمارے سامنے بیان کر کے کہا کہ ان اوقات میں دعا کرو اور اصل چیز تو یہ بتانا تھا کہ کوئی وقت تمہاری زندگی میں ایسا نہیں ہونا چاہیے، ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جس میں تم خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو کیونکہ اس کے بغیر سحر لَكُم مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : (۱۴) کے باوجود، با وجود اس کے کہ ہر دو جہاں کی ہر چیز تمہاری خادم ہے اور اس کے باوجود کہ دنیا جہاں کی ہر چیز سے خدمت لینے کی طاقت تمہاری فطرت میں رکھی گئی ہے تم خیر اور بھلائی حاصل نہیں کر سکتے۔پس ہر احمدی کو ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکے رہنا چاہیے اور اسی سے ہر وقت خیر مانگنی چاہیے۔دعا کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ تم