خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 536

خطبات ناصر جلد ششم جماعت سے پابندی کرائیں۔۵۳۶ خطبه جمعه ۱۳ /اگست ۱۹۷۶ ء احباب کو اس ضمن میں یادرکھنا چاہیے کہ ایک موصی اسی صورت میں موصی رہ سکتا ہے جب وہ اپنی آمد کا کم از کم حصہ بطور چندہ ادا کرے اور جماعت کے تمام دوسرے افراد کے لئے ہر لحاظ سے نمونہ بنے۔جو ایسا نہیں کرتا نہ اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو موصی سمجھے اور نہ جماعت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو موصیوں میں شمار کرے۔اسے بہر حال موصیوں سے الگ سمجھنا اور الگ کرنا ضروری ہے۔آخر میں حضور نے فرمایا مجموعی طور پر میں خوش ہوں کہ آپ لوگوں نے احمدیت قبول کر کے اپنی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی پیدا کی ہے۔آپ نے گنوایا کچھ نہیں اور بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن جتنی تبدیلی بھی آپ کی زندگیوں میں آئی ہے اور جو کچھ آپ نے حاصل کیا ہے اس پر قانع نہ ہوں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو بڑے بڑے انعامات کا وارث بنے کا عظیم موقع عطا کیا ہے اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں بلکہ اس سے کما حقہ فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو انعامات الہیہ کا وارث بنا ئیں۔میں اس بارہ میں فکرمند ہوں کہ آپ کی ترقی کی رفتارتسلی بخش نہیں ہے آپ لوگ اپنی پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ اسلام کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کی کوشش کریں اور اپنے عملی نمونہ کے ذریعہ اسلام کو اس ملک میں پھیلانے اور غالب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں تا خدا کا پیار آپ کو حاصل ہو اور آپ اس کے اور وہ آپ کا ہو جائے۔اور پھر فر ما یا اب میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی مجھے اپنی دعاؤں میں یا درکھیں گے۔اس کے بعد حضور نے جذب واثر میں ڈوبی ہوئی وہ دعا ئیں انگریزی میں کیں جن سے حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۷ ء منعقدہ جنوری ۱۹۶۸ء کا افتتاح فرمایا تھا۔وہ دعائیں جن سے حضور نے احباب امریکہ کو اپنے دورہ امریکہ کے اس آخری خطبہ جمعہ میں نوازا خود حضور ہی کے بابرکت الفاظ میں یہ ہیں۔” میری یہ دعا ہے کہ اللہ کرے کہ تم پاک دل اور مطہر نفس بن جاؤ اور نفس امارہ کے سب گند اور پلیدیاں تم سے دور ہو جائیں تکبر اور خود بینی اور خود نمائی اور خودستائی کا شیطان