خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 535
خطبات ناصر جلد ششم ۵۳۵ خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۷۶ ء محسوس کیا کہ ان کی اپنی زندگیوں میں اور امریکی نومسلموں یا باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ کہ ان کی زندگیاں بھی اسی طرح مادہ پرستی کی آئینہ دار ہیں جس طرح کہ ان کی اپنی زندگیاں ہیں تو پھر تم لوگ خود ان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے انہیں اسلام کی طرف نہیں کھینچ سکتے۔اس میں شک نہیں کہ میں نے یہاں کے احمدیوں کی زندگیوں میں ایک خوشکن تبدیلی دیکھی ہے اور میں اس پر خوش بھی ہوں لیکن میں یہ کہنا اور آپ لوگوں کے یہ امر ذہن نشیں کرانا چاہتا ہوں کہ یہ تبدیلی کافی نہیں ہے۔آپ لوگوں پر نہ صرف اپنے نفوس کے بارہ میں ذمہ داریاں ہیں بلکہ آپ پر تو دوسروں کو بھی اسلام کی طرف مائل کرنے اور انہیں اسلام کا گرویدہ بنانے کی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اسلام پر کما حقہ عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگیوں میں اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرنے کی ہمت ، جرات اور توفیق عطا فرمائے۔میں نے اس ضمن میں فی الوقت جو کچھ کہا ہے اس پر غور کریں اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہیں۔اس کے بعد حضور نے ایک اور امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرما یا :۔میرے اس ملک میں قیام کے دوران امریکہ کی جماعتہائے احمدیہ کے امراء کے متعد دا جلاس منعقد ہوئے ہیں جن میں ہم نے مل کر تعمیر و ترقی کا ایک پروگرام مرتب کیا ہے لیکن اگر مادی ذرائع میسر نہ ہوں تو اچھے سے اچھے پروگرام یا منصوبے پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔میں نے یہاں آکر یہ محسوس کیا ہے کہ موصی صاحبان پر دیگر افراد جماعت کے سامنے ہر لحاظ سے جو اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسے وہ کما حقہ ادا نہیں کر رہے۔مثال کے طور پر موصی صاحبان کے لئے حصہ آمد کے طور پر جو چندہ مقرر ہے اسے خلیفہ وقت بھی معاف نہیں کر سکتا اور نہ اسے بدل سکتا ہے چندہ عام کے بارہ میں اگر کوئی شخص اپنی مجبوریاں یا مخصوص حالات پیش کر کے معافی یا تخفیف کی درخواست کرے تو خلیفہ وقت چندہ کا بقایا معاف کر سکتا ہے یا اس میں تخفیف کی اجازت دے سکتا ہے لیکن وصیت کے چندہ میں ایسا نہیں ہو سکتا۔میں نے اس بارہ میں مبلغ انچارج سے بات کی ہے اور انہیں اس بارہ میں ہدایات دی ہیں کہ وہ چندوں کی باقاعدہ اور با شرح ادائیگی کی احباب