خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 266

خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۶ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء قرآن عظیم نے اعلان کیا تھا کہ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ( الفرقان : ۳۱) اپنے اپنے بت اور اپنے اپنے طریقے بنا لئے تھے یا قرآن کریم کی طرف توجہ نہ کر کے اپنی ایک طرزِ زندگی اور اپنے کچھ عقلی محلات بنائے ہوئے تھے۔جب ان کی کمزوریاں اور ان کے نقائص بتائے گئے تو وہ غصے ہو گئے۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے اپنے نمونہ سے اور اپنی فراست سے پیار کے ساتھ ان کو صداقت کی طرف لے کر آنا ہے۔جب ہم اپنے نفسوں پر نگاہ کرتے ہیں تو خود کو اتنا کمزور، اتنا بے بس اور اتنا حقیر دیکھتے ہیں کہ ان ذمہ داریوں کے اُٹھانے کے قابل نہیں پاتے لیکن ہم پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں انہیں چھوڑ بھی نہیں سکتے کیونکہ ڈالنے والا ہمارا پیارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے جماعت کو قائم کیا ، جس نے اس پودے کو لگایا ، جس نے پیار سے اس کی آبپاشی کی اور جس نے ہر مرحلہ اور ہر قدم پر اس کی حفاظت اور اس کی نشوو نما کے لئے اپنی قدرت کے جلوے ظاہر کئے۔پس ہم اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ نہیں سکتے ان سے منہ موڑ نہیں سکتے گود نیا ناراض ہے، دنیا غصے میں ہے، دنیا طیش میں ہے۔آج دنیا کو ہمارے جذبات خیر خواہی کی سمجھ نہیں آرہی۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم کمزور ہیں ، ہم حقیر ہیں ، ہم بے مایہ ہیں ، ہمیں کوئی اقتدار سیاسی یا کسی اور قسم کا حاصل نہیں اور نہ ہم اس کی خواہش رکھتے ہیں پھر ہم زندہ رہیں تو کس برتے پر، جئیں تو کیسے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں تو کن وسائل کے ذریعے۔جب ہم یہ سوچتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خلاف ان طوفانوں کے باوجود خدا تعالیٰ کے پیار کی آواز ہمارے کان میں یہ کہتی ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنی دعاؤں کے ساتھ ، نہایت عاجزانہ دعاؤں ، ابتہال کے ساتھ کی جانے والی دعاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ اور دعاؤں کے کھالوں کے ذریعے ( کھال جس میں پانی بہتا ہے ) دعا کی نہر کے ذریعے میری رحمت کو اور میری برکت کو جذب کرنے کی کوشش کرو۔دراصل ہمارا ہر لمحہ خدا کے حضور دعائیں کرتے ہوئے گزرنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تو نہ زندگی ممکن ہے اور نہ زندگی میں کچھ مزہ۔