خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 477 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 477

خطبات ناصر جلد ششم ۴۷۷ خطبہ جمعہ ۱۱ جون ۱۹۷۶ء نورانی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور ہمارے دلوں میں حضرت بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا کیا۔اس لئے نہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہم آپ کے مہدی کو چھوڑ سکتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ ہر دو پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں۔پس جہاں ہر احمدی خدا تعالیٰ کی حمد کرتا ہے اس کی تسبیح بیان کرتا ہے وہاں وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا اور آپ کی شان کے گن گاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا رہتا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ پر اور بھی زیادہ رحمتیں اور برکتیں نازل کرتار ہے اور سلام بھیجتار ہے اور ان پر بھی جو آپ کے ہو گئے اور جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی راہ میں وقف کر دیں۔صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فدائیت کا عملی نمونہ تھے وہ محبت رسول میں سرشار زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور پھر اُمت محمدیہ میں کروڑوں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جن کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کی آگ سلگتی رہی۔پھر اسلام پر تنزل کا زمانہ آگیا موجودہ زمانہ کے بڑے بڑے فلاسفر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام پر تنزل کا زمانہ آیا۔مگر اس بات سے انکار کر دیتے ہیں کہ اس تنزل کے زمانہ میں جس مہدی کے آنے کی بشارت دی گئی تھی وہ آئے گا۔کہتے ہیں وہ نہیں آیا اور انہیں اس کی ضرورت نہیں وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جس نے تنزل کے زمانہ کی خبر دی تھی اسی نے مہدی کے آنے کی بشارت بھی دی تھی۔بہر حال حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا ہیں۔ہم اپنے پیارے آقا کو نہیں چھوڑ سکتے اور ایک اس آقا کا محبوب روحانی فرزند ہے جس نے انسانوں کے ایک گروہ میں ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیا۔اس نے اپنی جماعت کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بے پناہ عشق اور محبت پیدا کر دی اس لئے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کو بھی نہیں چھوڑ سکتے۔بعض لوگ اپنی افتاد طبع کی وجہ سے اور اپنی ان استعدادوں کے فقدان کی وجہ سے جو ایک مخلص مومن میں ہونی چاہئیں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں اگر اسی میں اُن کی خوشی ہے تو