خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 476 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 476

خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۱۱؍جون ۱۹۷۶ ء محبت پیدا ہوئی اتنا نا شکرا بن جائے گی اتنی عظیم چیز حاصل کر لینے کے بعد پھر اس کی جماعت کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جائے گی۔دونوں باتیں جماعت کے لئے ممکن نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے اس لئے میں کہتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ، خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ ایسا نہیں ہوسکتا نہ جماعت احمدیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑ سکتی ہے اور نہ جماعت احمد یہ مہدی علیہ السلام سے دور ہو کر ناشکری کی راہوں کو اختیار کرسکتی ہے۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کائنات کی وجہ تخلیق ہیں اور جن کی وجہ سے اس کائنات، اس یونیورس اور اس عالمین کو پیدا کیا گیا۔جب آپ کی اس عظیم الشان زندگی ، آپ کے حسن و احسان کو ہمارے سامنے رکھا گیا تو آپ کے اس مقام کی معرفت کے بعد ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو نہیں چھوڑ سکتے۔ہم آپ کا دامن کیسے چھوڑ سکتے ہیں ہم یہ کیسے اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم غیر مسلم ہیں ہم یہ اعلان نہیں کر سکتے۔دنیا یا دنیا کا دستور یا قانون ہمیں جو مرضی چاہے کہتا رہے، ہم پر جو چاہے حکم لگائے لیکن ہماری زبان اس بات کا کیسے اعلان کر سکتی ہے جب کہ ہمارا دل اس اعلان کے ساتھ نہیں ہے جبکہ ہماری روح کا ذرہ ذرہ اس ہستی پر قربان ہو رہا ہے اور اس کے گردمستانہ چکر لگا رہا ہے جب کہ ہم جان و دل سے اسلام کی عظمت کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ہر وقت قربان ہونے کے لئے تیار ہیں تو پھر ہم آپ کے دامن کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔اسی طرح مہدی علیہ السلام جنہوں نے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے اندر عشق رسول پیدا کیا جب کہ دنیا آپ کو بھول چکی تھی اور جس کے متعلق خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مہدی کا زمانہ وہ زمانہ ہوگا جس میں اسلام کی اس قدر خستہ حالت ہوگی اور اس کے اندر اس قدر بدعات شامل ہو چکی ہوں گی کہ جب وہ اسلام کو ان بدعات سے صاف کر کے خالص شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو دنیا کہے گی یہ تو کوئی نیا دین اور نئی کتاب لے کر آ گیا ہے۔پس اس مہدی کو چھوڑ کر ہم ناشکری کی راہوں کو کیسے اختیار کر سکتے ہیں جس نے اسلام کو صاف اور مصفی کر کے پیش کیا اور اس کے حسن و احسان کو ثابت کیا اور اس کا نہایت ہی حسین اور