خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 388

خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۸ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ ء احمدیہ) اپنے ابتدائی دور میں دوتیوں کی بات کیا کرتے تھے اور کجا آج ہم کروڑوں کی بات کر رہے ہیں لیکن جس طرح کام بڑھنا شروع ہوا ہے اس کے لحاظ سے اس وقت کام کے مقابلے میں جو دونی کی حیثیت تھی آج کروڑوں کی حیثیت بھی کام کے مقابلہ میں وہی ہے کیونکہ جماعتِ احمدیہ کے سپر د جو کام ہوا ہے وہ کروڑوں سے تو پورا نہیں ہوتا۔ساری دنیا کو اسلام کی صداقت کا قائل کرنا ہے میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ایک موقع پر مجھے شرمندہ ہونا پڑا۔ایک صحافی نے مجھے سے یہ سوال کر دیا کہ اسلام کی ایسی حسین تعلیم کو ہمارے عوام تک پہنچانے کے لئے آپ نے کیا سامان کیا ہے؟ چنانچہ اس وقت میں نے اندازہ لگوایا اور یورپین ممالک کے سارے مبلغین سے میں نے کہا کہ جائزہ لیں تو سوئٹزرلینڈ جو کہ ایک چھوٹا سا ملک ہے وہاں کے پوسٹ آفس نے کہا کہ اگر آپ ایک خط ہر گھر میں بھیجنا چاہیں تو اس پر پندرہ لاکھ روپیہ خرچ ہو جائے گا۔ا پس یہ جو کروڑوں روپے کی ہماری ساری دنیا کی جماعت کی آمد ہے اس سے تو شاید ہم ساری دنیا کے ہر گھر میں ایک خط بھی نہ پہنچاسکیں۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج اسلام کو غالب کرنے اور نوع انسانی کے دلوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کی جو ضرورت ہے اس ضرورت کے لئے کروڑوں روپے نہیں چاہئیں بلکہ کھربوں روپیہ سے بھی زیادہ رقم چاہیے لیکن خدا تعالیٰ ہمیں یہ کہتا ہے کہ تم سے جو بن آتی ہے وہ کرو اور باقی مجھ پر چھوڑ دو بہر حال جماعت خدا کے فضل سے اس میدان میں بھی جو کہ مالی جہاد کا میدان ہے ہر سال ترقی کرتی ہے۔مالی جہاد کا میدان تو بہت چھوٹا ہے اور جو دوسرے بہت سے جہاد جماعت کر رہی ہے۔ان کے لئے تو یہ ایک چھوٹی سی بنیاد بنتا ہے اس سے بڑی بنیاد وہ اوقات ہیں جو دوست دیتے ہیں۔جماعت بہت وقت دے رہی ہے دوشکلوں میں جماعت وقت دے رہی ہے۔ایک اس شکل میں کہ ہم تحریک کرتے رہتے ہیں کہ اتنی دفعہ الحمد للہ کہو اتنی دفعہ سبحان اللہ کہو اتنی دفعہ درود بھیجو اور اربوں دفعہ یہ تسبیح اور تحمید اور درود جماعت پڑھ رہی ہے اور دوسری دعائیں کر رہی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ استغفار کرو۔خدا سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافیاں مانگو۔اس پر انسان وقت خرچ کرتا ہے۔ساری جماعت اجتماعی رنگ میں یہ وقت خرچ کر رہی ہے۔تسبیح اور تحمید اور درود