خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 389
خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۹ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ء کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے ہر نفس فائدہ اٹھا رہا ہے۔ہر شخص کے اپنے نفس کے بھی حقوق ہیں جو اس طرح پورے ہوتے ہیں لیکن علاوہ نفس کی بہتری کے ہماری یہ دعا ئیں اجتماعی نتائج بھی نکال رہی ہیں۔پس ایک تو یہ وقت ہے جو جماعت دیتی ہے اور بڑے پیار سے دیتی ہے بڑے اخلاص سے دیتی ہے بڑی عاجزی سے دیتی ہے اور دعاؤں میں لگی ہوئی ہے دوسرا وقت جو جماعت دے رہی ہے گو وہ بھی دعاؤں کا حصہ ہی ہے لیکن پہلی دعاؤں کے علاوہ بہت ساری اور دعائیں ہیں جو ہم کرتے ہیں اور اس پر وقت خرچ کر رہے ہیں ہم جو کہتے ہیں نوافل پڑھو اس پر بھی تو وقت خرچ ہوتا ہے اس کے علاوہ ہم نیکی کے اور ہزار مطالبے کرتے ہیں مثلاً یہ کہ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھو، اپنوں کا خیال رکھو، کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔اس کے لئے خیال رکھنا پڑتا ہے اور بہر حال وقت دینا پڑتا ہے، پھر وقف عارضی ہے، دورے ہیں۔پھر مقامی کارکن وقت دیتے ہیں میں نے کئی دفعہ بتایا ہے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دوست اگر سات یا آٹھ گھنٹے مثلاً اپنی فرم میں دے رہے ہیں تو جماعت کے کام کے لئے اس کے علاوہ وقت دیتے ہیں۔رات کے گیارہ بجے تک بیٹھے رہتے ہیں اور دن میں دس دس گھنٹے وقت دے دیتے ہیں اس قدر وقت بھی دوست خرچ کر رہے ہیں۔ہم وقت کے لحاظ سے اعداد و شمار اکٹھے نہیں کر سکتے ورنہ دنیا ہماری مالی قربانی کے مقابلے میں ہماری وقت کی اس قربانی کو دیکھ کر بہت زیادہ حیران ہو جائے۔عجیب قوم ہے ! جھکتی ہی نہیں خدا کی راہ میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ خوشخبری دی گئی تھی کہ اَنْتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه جب انسان اپنا وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ کام میں لگا رہتا ہے تب ہی یہ صورت بنتی ہے اور اس میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ تجھے ایک ایسی جماعت ملے گی جو اپنے اوقات کو ضائع نہیں کرے گی اور معمور الاوقات ہو گی۔وہ لوگ دعاؤں میں لگے رہیں گے کبھی نفل پڑھ رہے ہیں کبھی دین کی باتیں کر رہے ہیں بچوں کو قرآن کریم پڑھا رہے ہیں وقف عارضی میں باہر نکل رہے ہیں کراچی اور لاہور کے جماعت کے مقامی نظام بڑے پھیلے ہوئے ہیں۔اگر جماعت ایک جگہ ہو تو کام شاید دسواں حصہ بھی نہ رہے لیکن اب ہر محلے میں کہیں دس گھر ہیں کہیں ہیں گھر ہیں کہیں پچاس اور کہیں سو۔پھر