خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 387 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 387

خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۷ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ء میرے حضور پیش کر دو گے تو تمہارے سپر د جو کام کیا گیا ہے اس کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے ان دونوں میں جو فرق ہے وہ میں پورا کر دوں گا اور وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے ہمارے سامنے کوئی نئی چیز تو نہیں۔دراصل جب سے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے یہی ہو رہا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ حسن سلوک اپنے پیارے بندوں کے ساتھ اس وقت اپنے کمال کو پہنچا جب شمس الکمال دنیا پر ظاہر ہوا یعنی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم۔عظیم تھا وہ انسان ! کہ اس وقت سے اب تک چودہ سوسال ہو گئے ہیں کہ اس کی اُمت میں سے جس نے بھی اور جب بھی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی طاقت کے مطابق اس کے حضور پیش کر دیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے فضلوں سے ان کے گھر کو بھر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مہدی معہود علیہ السلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے کہ آخری زمانہ میں ساری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا اور آپ کے ذریعہ سے تربیت حاصل کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی جماعت بنی۔اب آہستہ آہستہ اس تربیت کا رنگ بدل گیا ہے۔کجاوہ زمانہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے اگر کسی نے دین اسلام کی راہ میں چوٹی پیش کی تو آپ نے اپنی کتابوں میں ان کا نام اور چونی یا دونی کا ذکر کر کے قیامت تک کے لئے ان کے لئے دعا ئیں کرنے والے بنادیئے۔جب بھی دوست پڑھیں گے ان کے لئے دعائیں کریں گے۔آپ نے اس واسطے نام لکھے کہ یہ چیز اس زمانے کی حالت بتا رہی تھی ، ایسا زمانہ تھا کہ کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول اور اسلام کی راہ میں دونی دینا بھی دوبھر سمجھتا تھا پھر تربیت ہوئی اور تربیت میں دو قسم کی وسعت پیدا ہوئی۔ایک تو تربیت پانے والوں میں وسعت پیدا ہوئی اور دوسرے آہستہ آہستہ تربیت میں شدت پیدا ہوئی اور تربیت کا ہر قدم آگے بڑھنا شروع ہوا۔چنانچہ ابھی مشاورت ختم ہوئی ہے اس میں جماعت کے بجٹ پیش ہوئے۔بیرونی ممالک کا ایک سال کا بجٹ قریباً دو کروڑ روپے ہے اور اندرونِ پاکستان کا بجٹ اگر سارے چندے ملالئے جائیں تو ایک کروڑ سے اوپر ہے لیکن صرف صدر انجمن احمدیہ کے چندے بھی ۷۲ لاکھ کے قریب بنتے ہیں۔پس کجا ہم (یعنی جماعت