خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 294

خطبات ناصر جلد ششم ۲۹۴ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۶ء چوتھی بات اسلام کے حسین معاشرہ سے باہر رہنے والوں کے متعلق ہے۔دنیا میں ہمیں چار قسم کے گروہ نظر آتے ہیں ایک تو ان لوگوں کا گروہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں انتہائی قربانیاں دے کر اس کے پیار کو حاصل کر لیتے ہیں اور وہ جب تک اس دنیا میں زندہ رہتے ہیں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے باوجود ان کے لبوں پر ہر وقت یہ دعا رہتی ہے کہ اے خدا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلتیں ہمیں تیرا قرب پالینے کے بعد پھر تجھ سے دور لے جائیں اور ہمارا خاتمہ بالخیر نہ ہو۔دوسرا گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو اس روحانی معیار پر پہنچا ہوا نہیں ہوتا وہ کمزور ہوتا ہے اور زیر تربیت بھی لیکن اس کی اپنی کوشش ہر وقت یہی رہتی ہے کہ وہ تقویٰ کے میدانوں میں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو نباہنے میں ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے بھائیوں سے تعاون علی البر کرتے ہیں اور ان کے بھائی ان کے ساتھ تعاون علی البر کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب فضل کرتا ہے تو ان لوگوں کو بھی اپنے مخلص اور چنیدہ بندوں کے گروہ میں شامل کر لیتا ہے یعنی ان مخلصین کے گروہ میں جو پہلے تیار ہو چکا ہوتا ہے۔تیسرا گروہ ایسے کمزور لوگوں کا ہے جن کے دلوں میں مرض ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔في قُلُوبِهِم مَّرَضٌ (البقرة:1) لیکن وہ انتہائی کوشش کرتے ہیں کہ اس مرض اور اس کمزوری کا علاج ہو۔یہ دراصل کمزور اور زیر تربیت گروہ کا دوسرا حصہ ہے۔ان کے لئے روحانی ترقیات کی راہوں کو اختیار کرنا کمزور اور زیر تربیت گروہ کے پہلے حصہ کی نسبت زیادہ مشکل ہوتا ہے اس لئے کہ جس وقت یہ اپنے جیسے یا اپنے سے بڑھ کر بیمار دلوں کی صحبت میں بیٹھتے ہیں تو ان کا اثر قبول کر لیتے ہیں اور جس وقت وہ مومنین کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو ان کی روحانی صحبت سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے اندر اصلاح کی طرف توجہ پائی جاتی ہے۔ایسے لوگ اپنے روحانی مجاہدہ میں نہ تو اس قدر ترقی یافتہ ہوتے ہیں کہ ہم ان کو زیر تربیت یعنی آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے گروہ میں شامل کر لیں جن کے لئے خدا کے فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر دعا کرتے