خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 232
خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۲ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۷۵ء اختیار کرتا ہے اور یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن چونکہ پچھلے چند ہفتوں میں میرا پروگرام کچھ ایسا رہا ہے کہ کچھ تو ہفتہ کے دن ملاقاتیں ہوتیں اور پھر اتوار کو پانچ چھ سو بلکہ پچھلی اتوار کو تو غالباً آٹھ سو سے بھی زیادہ ملاقاتی تھے۔ان ملاقاتوں کے دوران ایک تو کئی گھنٹے دوستوں سے باتیں کرنا پڑتی ہیں دوسرے کئی جماعتیں مختلف علاقوں سے آئی ہوتی ہیں اور وہ کچھ نہ کچھ انفلوائنزا کے بیمار بھی ساتھ لاتی ہیں گویا سارے پاکستان کا انفلوائنزا پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں جمع ہو جاتا ہے اور مجھ پر اثر انداز ہوتا ہے۔چنانچہ گزشتہ اتوار کے بعد پیر سے انفلوائنزا کا ایسا شدید حملہ ہوا کہ مجھے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں پھر ایک لمبا عرصہ چار پائی پر نہ گزارنا پڑے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے آج کچھ آرام ہے لیکن جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کھانسی اٹھتی ہے ابھی پورا آرام نہیں آیا۔انفلوائنزا کی وجہ سے ضعف بھی ہے۔ابھی جب میں یہاں آنے لگا تو اٹھنے سے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی لیکن میں اس خیال سے یہاں آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ بھی ملاقات کا دن مقرر کیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔علاوہ ازیں کچھ تربیتی اور انتظامی ، کچھ اخلاقی اور روحانی باتوں کے کہنے کا دن ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں کچھ باتیں ہو جائیں گی کچھ ملاقات ہو جائے گی اور کل اور پرسوں سے پھر ملاقاتوں کا چکر شروع ہو جائے گا۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ سب کو ہی شفا دے اور سارے ملک سے اس بیماری اور دوسری سب بیماریوں کو دور کردے۔انسان جب قرآن کریم پر غور کرتا ہے اور دعاؤں سے اس کے علوم سیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور استغفار کے ذریعہ مغفرت کی چادر کی تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ رحم کرتے ہوئے انسان کو مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے۔غرض جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو بہت سی باتیں نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہیں اور ہمیں قرآنی تعلیم کی یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کی جو متاع ہے وہ دنیا کی منڈیوں میں یا دنیا کی ایسوسی ایشنز اور مجالس وغیرہ سے نہیں ملا کرتی۔نہ دنیا کے کارخانے اسلام کی متاع عزیز کو بناتے ہیں اور نہ وہ اس کے بنانے پر قادر ہیں۔یہ متاع عزیز صرف اللہ تعالیٰ کے دربار سے دستیاب ہوتی ہے اور اس کے لئے قرآن کریم نے ہمیں دعائیں