خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 233

خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۳ خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۷۵ء سکھائی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اے لوگو! دعائیں کرتے رہا کرو کہ تمہیں اسلام ملے اور پھر اسلام پر قائم رہنے کی توفیق ملے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو دعائیں سکھائیں ان میں سے وہ دعائیں جو اپنے اندر ابدی صداقتیں رکھتی ہیں ان کو قرآن کریم میں محفوظ کر دیا۔ان میں ایک یہ دعا بھی ہے۔رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ (البقرة : ١٢٩) اے ہمارے رب ! مجھے اور میرے بیٹے ( جو بعد میں نبی ہونے والے تھے ) کو مسلمان بنا اور اسلام پر قائم رکھ۔عربی محاورہ میں ہر دو معنے آتے ہیں جس کو ابھی اسلام نصیب نہ ہوا ہو اور ملتِ ابراہیمی کی پیروی کرنے والا نہ ہو اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اُسے اسلام نصیب ہو جائے گالیکن ایک نبی اور وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے نبی جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارتیں دیں۔جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بے انتہا دعائیں کیں۔جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کو قبول کرنے کے لئے اپنی قوم اور اپنی نسلوں کی تربیت کی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ان قوموں سے پیار کرنے کے لئے قائم کیا تھا جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابتدائی مخالفت کے باوجود دنیا میں پہلا وار پہلی سختیاں ، پہلی تنگیاں ، پہلے دکھ اسلام کی راہ میں اٹھانے تھے اور بنیاد بننا تھا اسلام کے لئے ، اسلام کی قوت کے لئے ، اسلام کی طاقت کے لئے اور اسلام کے استحکام کے لئے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ یہ دعائیں کرتے رہا کرو کہ اے خدا! مجھے اور میری اس اولا د کو جس کو تو نے نبوت عطا کرنی ہے اسلام پر قائم رکھ۔پس اسلام اللہ تعالیٰ کے دربار سے ملتا ہے اور اسی کے فضل سے اور اسی کی رحمت سے انسان اس پر قائم رہ سکتا ہے۔اسلام کوئی معمولی چیز نہیں ہے اسلام چند قوانین کا نام نہیں ہے۔اسلام ان احکام پر مشتمل ہے جو ہر زمانے کے ہر انسان کی ساری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں اور زندگی کے ہر مر حلے پر اس کی راہنمائی کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قیامت والے دن قرآن تمہارے حق میں یہ گواہی دے گا کہ تم نے اس پر عمل کیا ہے یا نہیں۔اگر تم اس کے سینکڑوں احکامات میں سے کسی ایک حکم کی بھی جانتے بوجھتے اور تکبر اور استکبار کے نتیجہ