خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 561
خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۱ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء میں لندن میں تھا کہ مجھے کمال یوسف صاحب نے فون کیا کہ ایک ملک کے سفیر نے ( میں مصلحت اس ملک کا نام نہیں لینا چاہتا ) کونسل جنرل کو حکم دیا کہ گوٹن برگ کی مسجد میں جاؤ چنا نچہ وہ کونسل جنرل آیا اور اس نے ان کو بتایا کہ اس طرح مجھے حکم ملا ہے اور میں مسجد دیکھنے آیا ہوں۔اُس نے ساری مسجد دیکھی اور پھر کہنے لگا کہ آپ کے نام پیغام یہ ہے کہ کبھی بھی آپ کو ایسی ضرورت پڑے جو ہم پوری کر سکتے ہوں تو آپ بے تکلف ہمیں بتائیں ہم وہ پوری کریں گے۔وہ ایک عربی بولنے والے ملک کے سفیر کا کونسل جنرل تھا۔ایک دن ایک اور مسلمان ملک کا ایک شخص آ گیا۔بعد میں پتہ لگا کہ وہ سفیر تھا لیکن انہوں نے بتایا ہی نہیں کہ میں ہوں کون ؟ نہ ہمارے کمال یوسف صاحب نے پوچھا اُن کی بیوی اور ایک اور افسر بھی ان کے ساتھ تھا۔انہوں نے کہا ہم مسجد دیکھنے آئے ہیں چنانچہ مسجد دیکھی ۳۰-۴۰ منٹ تک باتیں کرتے رہے۔دوران گفتگو اُن کی بیوی نے بے جھجک کہا کہ بات یہ ہے کہ جہاں تک رسوم کا تعلق ہے ہر ملک کی اپنی رسوم کہلاتی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی ہیں (مشرقی ممالک کی طرف کے تھے ) لیکن اسلامی تعلیم میں نے جماعت احمدیہ سے سیکھی ہے اور یہ بات انہوں نے بر ملا مجلس میں کہی اور ہمارے مشنری انچارج کو نہیں پتہ تھا کہ یہ ہیں کون لوگ۔جب وزیٹر بک اُن کے سامنے رکھی گئی اور انہوں نے اس پر دستخط کئے تو نیچے لکھا کہ میں فلاں ملک کا سفیر ہوں۔غرض لوگوں کو اس مسجد کے ساتھ بھی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔مسجد کے ساتھ دلچپسی میرے ساتھ دلچپسی یا آپ کے ساتھ دلچپسی تو نہیں خدائے واحد و یگانہ کے ساتھ دلچسپی ہے جس کا وہ گھر ہے اور امن کی جگہ ہے۔جو مجھ سے ملتا تھا میں اس سے کہتا تھا کہ دیکھو اس مسجد میں کتنا سکون ہے۔اس میں کتنا امن ہے۔جب آدمی اس میں داخل ہوتا ہے تو وہ سارے تفکرات بھول جاتا ہے اور یہ صرف ہم پر اثر نہیں بلکہ جو غیر مسلم وہاں آئے ہوئے تھے وہ بھی کہتے تھے کہ آپ کی بات درست ہے بڑی پرسکون جگہ ہے وہ سارا علاقہ ہی پرسکون ہے۔بڑی کثرت سے لوگ آتے ہیں اور انشاء اللہ آتے رہیں گے۔ہمارے ساتھ ایک مووی لینے والے تھے ان کی مووی دیکھی کہ ابھی ہم دومیل پرے تھے کہ مسجد کا گنبد اور چھوٹے چھوٹے مینار نظر آنے لگ گئے تھے اور