خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 560
خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۰ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء کرتے تھے ایک دوسرے سے کشتیاں بھی کرتے تھے اور ایک دوسرے پر پتھر بھی پھینکتے تھے خوب Enjoy کرتے تھے اور کھانے کا وقت ہو تو وہ سارے کے سارے ہمارے کھانے میں بھی شریک ہو جاتے تھے اور کام ہو تو کام میں بھی لگ جاتے تھے۔پریس کانفرنس کے وقت ایک بچہ ہاتھ میں کسی پریس والے یا ہمارے احمدی کا مائیک پکڑ کر میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے اور وہ ہمارے ہمسائے عیسائی خاندان کا بچہ ہے۔ان دنوں غالباً چھٹیاں تھیں اور وہ سارا دن وہاں رہتا تھا اور جو کام بھی ہو کرتا تھا مثلاً کھانے کے وقت میزوں پر برتن لگانے یا لے کر جانے وغیرہ وغیرہ۔غرض محلے کے سارے بچے آتے تھے اور خوشی خوشی ہمارا ہاتھ بٹاتے تھے۔جہاں تک پریس کا سوال ہے وہ لوگ غصہ بھی نکال لیتے ہیں ایک پریس فوٹو گرافر آیا اس نے کہا میں زنانہ حصہ کی تصویر لے سکتا ہوں؟ ہمارے اس دوست نے جس سے اُس نے پوچھا تھا جواب دیا کہ یہ تو جو زنانہ حصہ میں بیٹھی ہیں وہی بتا ئیں گی کہ تم تصویر لے سکتے ہو یا نہیں ؟ بڑا اچھا جواب دیا۔اس نے کہا میں کیا بتاؤں آؤ ان سے پوچھتے ہیں۔زنانہ حصہ کے باہر کھڑے ہو کر باہر سے آواز دی اندر ہماری با پردہ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں کہ یہ پریس فوٹوگرافر صاحب ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ وہ آپ کی تصویر لے سکتے ہیں؟ عورتوں نے کہا نہیں ! ہم نہیں پسند کرتیں کہ ہماری تصویر لیں۔خیر وہاں تو انہوں نے کچھ نہیں کہا لیکن اپنی رپورٹ میں جو اخبار میں شائع کی اس میں انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اسلام نے عورت کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اس لئے وہ مسجد میں جاہی نہیں سکتیں۔ان کے لئے علیحدہ کمرہ بنایا ہوا ہے جو مسجد کا حصہ نہیں ہے۔میں نے کہا لو یہ شخص عورتوں پر غصہ نکالتے نکالتے ہم پر غصہ نکال گیا ہے۔جب اس کے بعد ہم اوسلو گئے تو وہاں پر یس کا نفرنس میں سوال کر دیا گیا۔میں حیران کہ یہ خبر اوسلو میں بھی پہنچی ہوئی تھی۔سوال کرنے والی عورت ہی تھی میں نے اس کو سمجھایا کہ یہ تو اس شخص نے غصہ اتارا ہے عورتیں مسجد میں جاتی ہیں۔جس حصہ میں وہ بیٹھتی ہیں وہ مسجد ہی کا ایک حصہ ہے۔یہ تو درست ہے کہ وہ مردوں کے پیچھے ایک طرف کھڑی ہوتی ہیں لیکن یہ کہنا کہ عورت مسجد میں جاہی نہیں سکتی یہ غلط ہے لیکن بہر حال اس فوٹو گرافر کو موقع ملا اس نے غصہ اتارلیا اور اس کی بڑی پبلسٹی ہوئی۔