خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 562 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 562

خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۲ خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء یسے شہر سے تو سارا منظر دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت دی اب یہ برکت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل قرآن کریم کی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ماتحت حاصل ہوئی ہے۔آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ مجھو کہ ہم نے کچھ نہیں کیا جو کچھ ملا وہ خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کا نتیجہ ہے اور بس۔اور یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے اور حقیقت بھی ایسی کہ ہمارے الفاظ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔ہمارے کرنے اور ہمارے لینے میں، ہمارے دینے اور ہمارے لینے میں زمین آسمان کا فرق ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں زمین آسمان کا فرق بھی کم ہے اس سے زیادہ فرق ہے۔سوچنا چاہیے کہ دیا ہم نے کیا اور لیا ہم نے کیا وہاں مسجد بن گئی وہاں نئی بیعتیں ہو گئیں لوگ جماعت میں شامل ہوئے وہاں نئے مطالبے ہو گئے کہ ہمیں کتابیں دو۔اب سکیم بنانی پڑی ہے امریکہ شائع کرے یا انگلستان شائع کرے یا پاکستان شائع کرے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن بہر حال ساری ضروریات دیکھنے کے بعد اس کا جو ابتدائی کام ہے وہ شروع ہو گیا ہے۔بہت سی چیزیں ہیں جو ہمارے کرنے والی ہیں صرف چندہ دینا تو کافی نہیں ہے۔وقت دیں اپنی عقل اپنا علم اسلام کی راہ میں خرچ کریں مضمون لکھا کریں۔میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ دوست اس طرف توجہ کریں کئی لوگ بی۔اے، ایم۔اے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں دینی علوم سیکھنے اور مضامین لکھنے کی طرف توجہ نہیں کرتے یا اتنی توجہ نہیں کرتے جتنی توجہ کرنی چاہیے۔جماعت میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنا علم ہے ! اتنا علم ہے !! اور خدا تعالیٰ کی اتنی عظیم عطا ہے علم کا ہونا۔یہ تو پھر ناشکرا پن ہے اگر ہم خدا کی راہ میں اس علم کو خرچ نہ کریں۔میرے دورے پر جانے سے چند دن پہلے تعلیم القرآن کلاس شروع ہوئی تھی اور میرے جانے کے بعد ختم ہوئی۔اس میں ہماری بچیاں بھی شامل تھیں وہ دوگروپس میں مجھ سے ملنے کے لئے آئیں۔ان کے ایک گروپ سے بات ہوئی تو پتہ لگا کہ اس کلاس میں ۱۲۵ لڑکیاں گریجوایٹ ہیں۔اگر وہ سال میں ایک مضمون بھی لکھیں یعنی وہی ۱۲۵ گریجوایٹ لڑکیاں جو یہاں تعلیم القرآن کلاس میں شامل ہوئی تھیں مضمون لکھیں تو ۱۲۵ مضمون بن جاتے ہیں۔یہ تو ہمارے مبلغین کا کام ہے کہ ان کو گائیڈ کریں کیونکہ بی۔اے، ایم۔اے طالب علم اپنے طور پر تو حوالے اکٹھے نہیں کر