خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 438
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۸ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۷۶ء غرض ہمارے بچے نے بڑا اچھا نمونہ پیش کیا دنیا کی تاریخ میں بھی اور احمدیت کی تاریخ میں بھی لیکن اگر کوئی نا سمجھ دنیا کی طرف مائل ہو اور دنیا کی خاطر جو ایک نہایت ہی حقیر چیز ہے اور دنیا کی خاطر جو نہایت ہی بے وفا ہے۔آتی بھی ہے اور چلی بھی جاتی ہے، دنیا بعض کروڑ پتیوں کو بعض دفعہ مانگتے ہوئے دیکھتی ہے اور غریب آدمیوں کے متعلق محاورہ بن گیا ہے کہ جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے ، غرض غریبوں کو امیر ہوتے اور امیروں کو غریب ہوتے دیکھا۔یہ تو دنیا ہے یہ تو کسی سے وفا نہیں کرتی تو پھر کیوں نہ اس ہستی سے تعلق پیدا کیا جاوے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے جس سے زیادہ وفا کرنے والی کوئی اور ہستی نہیں ہے اور اُسی کے ہو کر زندگی گزاری جائے۔اگر کسی کے دماغ میں نا سمجھی کے نتیجہ میں یا دنیوی لالچ کی وجہ سے خیال آئے تو اُسے سمجھا دینا چاہیے اور اگر نفاق یا ایمانی کمزوری کی وجہ سے ایسے خیال آئیں تو اُسے بتا دینا چاہیے کہ جو شخص اسلام کو چھوڑتا ہے اس کا مہدی علیہ السلام کے ساتھ تعلق عقلاً بھی نہیں ہوسکتا۔اسی واسطے میں نے شروع میں بتا دیا ہے کہ ہم تو مہدی علیہ السلام پر ایمان اس لئے لائے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ اس پر ایمان لانا اور میرا اُسے سلام پہنچانا۔جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے مہدی علیہ السلام کے ساتھ اس کا کیا رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔اسی واسطے پیچھے جب ایک واقعہ ہوا تو الفضل نے اعلان کیا تھا لیکن اصولی اعلان کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت لکھیں اُن میں سے ایک شرط بیعت یہ ہے کہ میں اپنی جان، مال، عزت اور ہر چیز کو اسلام پر قربان کرتا رہوں گا۔یہ شرائط بیعت میں سے ایک شرط ہے اور پھر آپ نے فرمایا کہ شرائط بیعت میں سے اگر کوئی شخص ایک شرط کو بھی توڑتا ہے تو وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مطابق بھی جو شخص اسلام سے ارتداد اختیار کرتا ہے اس کا جماعت احمدیہ سے کیا تعلق رہ جاتا ہے تاہم میں صرف جماعتِ مبائعین کی طرف سے بول سکتا ہوں اس لئے میں کہتا ہوں کہ سلسلہ عالیہ احمد یہ مبائعین خلافت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔پس جو شخص داخلہ کی خاطر یا جوشخص وظیفہ کی خاطر یا جو شخص جھوٹی عرب توں کی خاطر یا جو شخص اسمبلی