خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 437
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۷ خطبہ جمعہ ۱٫۳۰ پریل ۱۹۷۶ء فراست عطا کرے تا کہ وہ تعصبات کے نتیجہ میں خود اپنی ہی اُنگلیاں کاٹنے والے نہ ہوں۔اصل طاقت کا سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، عقل بھی وہی دیتا ہے اور فراست بھی وہی عطا کرتا ہے۔بڑے بڑے ذہین لوگ بعض دفعہ پاگل ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں یہ لکھا ہے کہ تکبر نہ کرو وہاں یہ مثال دی ہے کہ اپنی عقل اور سمجھ پر بھی گھمنڈ نہ کرو کیونکہ تمہیں پتہ نہیں کل کیا ہونے والا ہے۔میں ذاتی طور پر اس غیر احمدی لڑکے کو جانتا ہوں جو میرے ساتھ گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ائیر میں داخل ہوا تھا اور وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جسے احمدیت سے شدید تعصب تھا اس لئے وہ لڑکا جب بھی ملتا ہمیں ستانے کے لئے ، ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتا رہتا تھا۔اس کے خاندان کو یہ خیال تھا کہ وہ یونیورسٹی میں چوٹی کے طالب علموں میں پاس ہوگا اور پھر سُپر سیر سروسز (ICS) میں جائے گا اور بہت بڑا افسر بن جائے گا تو اُن کے خاندان کی عزت ہوگی اور اُن کی مالی حیثیت بھی اچھی ہو جائے گی۔غرض اس کے ساتھ اُنہوں نے بڑی امیدیں وابستہ کی ہوئیں تھیں لیکن اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے رہتے تھے جو خدا کو پسند نہیں تھے اور اس کو اپنی عقل اور سمجھ پر بڑا گھمنڈ تھا لیکن ابھی ایف۔اے کے امتحان کا وقت بھی نہیں آیا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا اور بڑی مشکل سے ایف۔اے تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا اور اُس کے سارے گھمنڈ اور غرورختم ہو گئے۔پس اپنی عقل پر گھمنڈ کرنا بھی ہمارے خدا کو پسند نہیں۔پس ہر وہ احمدی جسے خدا سمجھ دے اور قرآن کریم کے احکام پر چلنے کی توفیق دے اس کو غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ خیال کرنا کہ عقل ہم اپنے پاس سے لے آئے یا دولت ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق حاصل کر لی یا صحت اس لئے اچھی ہے کہ ہم بڑی سمجھ کے ساتھ غذا کھاتے ہیں اور اُسے ہضم کرتے ہیں، یہ چیزیں اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں علت العلل اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ہر لقمہ جو مجھے اور آپ کو ہضم ہوتا ہے وہ صرف اُس وقت ہضم ہوتا ہے جب اُس لقمہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ میرے بندہ کے پیٹ میں ہضم ہو جائے ورنہ وہی لقمہ بد ہضمی پیدا ہو کر ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔