خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 439 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 439

خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۹ خطبه جمعه ۱۷۳۰ پریل ۱۹۷۶ء کی سیٹ لینے کی خاطر اسلام کو چھوڑنے کا اعلان کرتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اُس نے گویا اپنے لئے جہنم کی آگ کے شعلے بھڑ کا لئے۔اس کا ہمارے ساتھ کیا تعلق باقی رہ گیا ہم تو مہدی علیہ السلام پر ایمان لائے ہی اس لئے ہیں کہ جس مہدی کی بشارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ آگئے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔کوئی اس سے متفق ہو یا نہ ہومگر یہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے مطابق ہے، آپ کی بشارتوں کے مطابق ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے اور آپ سب کے اطمینان کے سامان پیدا کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں ایسے زبر دست نشانات اور آسمانی برکات کا نزول ہوا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور محض قرآن کریم کے احکام اور شریعت کی پیروی میں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ٣٢) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بنیادی طور پر سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو حقیقتاً اور فی الواقع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق رکھنے والی جماعت ہے اور اس پاک ذات کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے والی ہے۔حضرت مہدی ومسیح موعود علیہ السلام کا یہی بنیادی اور سب سے بڑا معجزہ ہے لیکن وہ شخص جو ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیزاری اختیار کرے اُس کا اُس جماعت کے ساتھ کیسے تعلق قائم رہ سکتا ہے جن کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق سمندروں کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اعلان خلیفہ وقت کی طرف سے نہیں ہوا۔یہ اعلان نظام سلسلہ کی طرف سے ہو گیا تھا لیکن خلفائے وقت بھی مختلف پہلوؤں سے اس بات کی وضاحت کرتے رہے ہیں کہ جو شخص اسلام کو چھوڑتا ہے اس کا احمدیت سے کیا تعلق؟ احمدیت تو ہے ہی غلبہ اسلام کی ایک مہم کا نام۔ایک مہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں شروع ہوئی اُس وقت بھی اسلام کے لئے بڑے سخت جہاد اور بڑے زبر دست مجاہدہ کی ضرورت تھی۔اب اگر کوئی شخص اُس وقت یہ کہتا کہ میں اسلام کو چھوڑتا ہوں لیکن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کونہیں چھوڑ تا تو بڑی پاگلوں والی بات