خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 421 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 421

خطبات ناصر جلد ششم ۴۲۱ خطبه جمعه ۲۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ء آخری جنگ میں اسلام کے مقابل پر صرف عیسائی اور یہودی ہی نہیں بلکہ دنیا میں مذہب کے میدان میں ہندو بھی ہیں۔چنانچہ تقسیم سے قبل کا جو ہندوستان تھا اس میں ہم بھی رہتے تھے اور دوسرے مذا ہب والے بھی رہتے تھے۔اس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور دنیوی علم کے لحاظ سے وہ مسلمانوں پر فوقیت رکھتے تھے، ان کے پاس مال تھا، ان کے پاس بنک تھے ، ان کے پاس تعلیمی ادارے تھے، ان کے پاس بڑی زبر دست تنظیم تھی ساری چیز میں ہی تھیں اور پھر ان میں سے، اس دنیوی تنظیم میں سے لوگ نکلے جنہوں نے آریہ خیالات کا لبادہ اوڑھ کر اسلام پر حملہ کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس طرح حملہ آور ہو گئے جیسے کہ ایک وحشی ایک کمزور ہستی پر حملہ آور ہو جاتا ہے لیکن جو چیز وہ سمجھ نہیں سکے وہ یہ تھی کہ اسلام کا وہ موعود جس کا وعدہ اسلام کے صرف دفاع کے لئے نہیں بلکہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے دیا گیا تھا وہ آچکا ہے اس لئے ان کے حملے کامیاب نہیں ہو سکتے۔پھر خدا تعالیٰ نے اس شخص کو جو بڑی تعلیاں کیا کرتا تھا جس کا نام لیکھرام تھا۔حضرت مہدی علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ہندوستان کی دنیا کو ایک زبر دست نشان دکھاتے ہوئے اسلام کی برتری کو ثابت کرنے کے لئے اور ہندوستان کی دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ خدائے قادر و توانا آج اسلام کے ساتھ ہے،اسلام کے مد مقابل کے ساتھ نہیں ہے معجزانہ طور پر اس کو ہلاک کیا۔انہوں نے بڑا شور مچایا کہ شاید مہدی علیہ السلام نے قتل کا منصوبہ بنایا تھا لیکن جو منصوبہ آسمانوں پر بنایا گیا تھا مہدی علیہ السلام کے خلاف اس منصو بہ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا تھا اور نہ کیا گیا۔پھر یہاں پر بس نہیں بلکہ دوسری دنیا میں مختلف الخیال لوگ بسنے والے ہیں۔جاپان ہے ان کے اپنے مذہبی خیالات ہیں انہوں نے مذہب کو کلب بنا دیا ہے۔ان کے متعلق مشہور ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مذہب کی رسوم ادا کی جاتی ہیں اور جب وہی بچہ فوت ہوتا ہے تو اس کے جنازے کی رسوم ایک دوسرے مذہب کے مطابق ادا کی جاتی ہیں۔بہر حال مذہبی میدان میں ان کے خیالات جو بھی ہیں وہ اسلام کے خیالات نہیں ہیں بلکہ وہ اسلام کے مخالف خیالات ہیں۔ان میں لچک ہے لیکن وہ اس قسم کی لچک ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لچک ہمیں بچالے گی اور