خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد ششم ۴۱۹ خطبہ جمعہ ۲۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ء لیکن اس دنیا میں، آج کی دنیا میں اسلام کے مقابلہ میں صرف عیسائیت ہی تو نہیں ہے یہودی بھی ہیں۔یہودی گو تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن مال میں زیادہ ہیں اور ان کا اثر و رسوخ اتنا ہے کہ اس وقت جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے یعنی امریکہ اس سب سے بڑی طاقت کا جو سب سے بڑا فرد ہے جس کے ہاتھ میں کہ وہ طاقت ہے یعنی امریکہ کا پریذیڈنٹ اس کے گرد جو مشیر ہیں ان میں سے سات سات آٹھ آٹھ دس دس مشیر یہودیوں میں سے ہوتے ہیں اور وہ اس معاشرہ پر چھائے ہوئے ہیں اس وجہ سے کہ وہاں کے اخبارات جس کو ہم پر یس کہتے ہیں وہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں وہاں کے بنک یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔وہاں کی فائینانس کارپوریشنز جو کہ تقسیم زر کا انتظام کرتی ہیں وہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔وہاں کے جو بڑے بڑے کارخانے۔ہیں وہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اور ان کارخانوں میں اسلحہ بنانے کے کارخانے بھی ہیں۔ابھی کسی نے مجھے بتایا کہ ایک اسلامی ملک میں بعض لوگوں نے بعض احمدیوں کے ملا زمت میں لئے جانے پر اعتراض کیا۔اس پر وہاں کی سب سے بڑی سیاسی صاحب اقتدار شخصیت نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھو اگر ہم احمدیوں پر اعتراض کریں تو پھر یہ اعتراض یہاں نہیں ٹھہرے گا بلکہ آگے بھی جائے گا۔ہم نے اپنی ایئر فورس کے لئے جولڑا کا طیارے خریدے ہوئے ہیں ان کے مالک یہودی ہیں اور وہاں سے جو ٹیکنیشنز اور دیکھ بھال کرنے والا یہودی عملہ آیا ہوا ہے وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے ملک میں پھر رہے ہیں۔پھر کل کو تم کہو گے کہ ان کو بھی نکالو۔پس یہ جو دنیا کے کام ہیں ان کے اوپر اس قسم کے اعتراض نہیں کرنے چاہئیں۔اس لئے اگر احمدی بھی ہماری ملازمت میں ہیں تو ہمیں تحمل سے اور برداشت سے کام لینا چاہیے اور اپنے ماحول کو اور اپنے معاشرہ کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔بہر حال طیارے بنانے والے اور دوسرے ہتھیار بنانے والے کارخانے بھی یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔یہودی اگر چہ میں تھوڑے سے مٹھی بھر ہیں نوع انسانی کی کل تعداد کے مقابلہ میں ان کی فیصد بہت کم ہے لیکن ان کا اپنا ایک طریق ہے جس سے وہ چھا گئے ہیں۔۱۸۷۰ ء کے لگ بھگ دنیا میں ان کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا تھا کہ میں نے بعض جگہ پڑھا ہے کہ یہودیوں کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ دنیا کا سیاسی اقتدار ( کسی ایک ملک کا