خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد ششم ۴۱۸ خطبہ جمعہ ۲۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ء کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کیا جائے ، اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہم لوگ انتہائی قربانیاں دے کر انتہائی جدو جہد کریں گے تا کہ خدا کا یہ قول پورا ہو کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی کوششیں اور جن کے عمل مقبول ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں اسلام کا حسن لوگوں کے دلوں کو موہ لے گا اور نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں تلے اکٹھی ہو جائے گی۔لیکن یہ معمولی کام نہیں ہے۔دنیا میں مذہب کے اعتبار سے اس وقت اسلام کے مقابلے میں سب سے بڑا مذہب ہے، دنیا میں پھیلا ہوا مذ ہب ، دنیا میں طاقتور مذہب ، دنیا میں صاحب اقتدار مذہب اور دنیا میں صاحب دولت و ثروت مذہب عیسائیت ہے۔ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ جس کا شمار نہیں اور ان کے پاس عددی طاقت بھی ہے اور ان کا نظام جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے وہ با وجود فرسودہ ہو جانے کے اور باوجود اپنی روح کے کھوئے جانے کے پھر بھی وہ اس قسم کا نظام ہے کہ میرے خیال میں لاکھوں آدمی اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والے اس مذہب میں پائے جاتے ہیں اور وہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی کوششوں کے پیچھے سیاسی اقتدار ہے۔ان کے پاس اموال ہیں جن سے وہ کتب کی اشاعت کا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط اعتراضات کی بہتات کا انتظام کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف کثرت سے کتب شائع کرتے ہیں۔ان کے پاس دولت ہے جس سے وہ دودھ تقسیم کرتے ہیں، گندم بانٹتے ہیں، کپڑے دیتے ہیں اور دُنیوی حرص اور لالچ کے ذریعہ سے وہ دنیا کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی جماعت ہے جس کے پاس نہ سیاسی اقتدار ہے اور نہ اقتدار کی خواہش ہے، نہ اموال ہیں اور نہ ان کے دل میں اپنے لئے اموال کی کوئی تڑپ اور حرص اور لالچ ہے۔ان کے دلوں میں ایک لگن ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور اپنی جانوں کو اور اپنی عرب توں کو اور اپنے اوقات کو اور اپنے اموال کو پیش کیا ہے اور ہم نے عیسائیت کے مقابلہ میں دلائل کے ساتھ اور حقائق کے ساتھ اور عملی نمونہ کے ساتھ اسلام کو غالب کرنا ہے اور نوع انسانی کے ایک کثیر حصہ کو انسانوں میں سے ایک کثیر گروہ کو عیسائیت کے پنجہ سے نکال کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔