خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۵؍دسمبر ۱۹۷۵ء ساتھ جیتنے کے لئے پیدا کیا ہے اس کو ہمیشہ یاد رکھو اور اپنی نسلوں کے دماغوں اور ان کے ذہنوں میں یہ بات گاڑ دو کہ دنیا جو مرضی کہتی رہے ہو گا وہ جو خدا نے کہا ہے۔خدا کی باتوں کو کبھی دنیا کے منصوبے بھی نا کام کر سکتے ہیں؟ قرآن کریم نے بڑی تحدی کے ساتھ بار بار یہ کہا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے۔جب سے کہ الہام نازل ہونا شروع ہوا اور انبیاء علیہم السلام آئے ہم نے یہی دیکھا ہے۔اگر یہ درست ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے تو جس چیز کی صداقت پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی بے کسی اور ان کے مخالفوں کی طاقت اور اس کے باوجود آخر میں مخالفوں کی ناکامی اور نبیوں کی کامیابی نے مہر لگا دی اس کی صداقت سے ہم کیسے منہ پھیریں اور اس کو غلط سمجھنے لگ جائیں۔خدا تعالیٰ نے تیرہ سو سال سے اُمت محمدیہ کو یہ وعدہ دیا تھا یہ بشارت دی تھی اور یہ تسلی دی تھی کہ درمیان کے زمانہ میں جو مختلف ادوار آئیں گے ان سے گھبرانا نہیں آخر اسلام ساری دنیا کا مذہب بنے گا جو رحمتہ اللعالمین بن کر آیا۔دنیا کا کوئی حصہ اس کی رحمت کے دائرہ سے باہر کیسے رہ سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اور آپ نے قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ بات مہدی کے زمانہ میں پوری ہوگی جیسا کہ میں نے آپ کو کہا ہے۔اسلام کے غلبہ کی صدی آ رہی ہے اب اس کا انتظار بہت تھوڑا ہے۔دنیا میں کسی کو بھی یہ پتہ نہیں نہ مجھے نہ آپ کو کہ ہم نے کتنی دیر زندہ رہنا ہے لیکن پندرہ سال کا زمانہ ایک فرد واحد کی زندگی میں کوئی لمبا زمانہ تو نہیں ہے اور قوموں کی زندگی میں تو اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور اس عرصہ میں بڑی قربانیاں دینی پڑیں گی۔اس لئے نظر آنے والی یا انسانی نظر سے غائب رہنے والی وہ طاقتیں جو چودہ سو سال تک یہ پسند نہیں کرتی رہیں کہ اسلام غالب آئے۔اب جبکہ اسلام کے غلبہ کا وقت آ گیا ہے وہ اس کو کیسے برداشت کریں گی کہ اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا ہونے لگ جائیں۔اس واسطے ان طاقتوں نے ان طاغوتی طاقتوں نے اس مہم کو نا کام کرنے کے لئے پورا زور لگانا ہے۔انہوں نے اس بات میں پورا زور لگانا ہے کہ اسلام غالب نہ آئے۔اس کے مقابلہ میں ہماری صرف یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی حقیر سی اور اپنی غریبانہ، اپنی عاجزانہ کوششیں اور مجاہدے خدا کے حضور پیش کر دیں اور خدا تعالیٰ کے حضور