خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۸ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۷۵ء ایسا کرنے میں وہ حق بجانب ہے۔اسے ہم کو پاگل ہی سمجھنا چاہیے جس طرح کہ مکی زندگی میں مکہ میں اہل مکہ کی نگاہ میں مسلمانوں کو پاگل سمجھا جاتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی بڑی دلیری سے یہ کہہ دیا تھا کہ نعوذ باللہ آپ مجنون ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اپنے فعل سے یہ بتا یا کہ جس کو تمہاری دنیوی عقل مجنون کہتی ہے پہلوں نے بھی اسی سے عقل حاصل کی اور قیامت تک نوع انسانی اپنی ترقیات کے لئے اسی سے عقل حاصل کرتے رہیں گے۔پس دنیا میں یہی ہوتا چلا آیا ہے اور قیامت تک ہوتا چلا جائے گا۔اس واسطے اگر دنیا ہمیں پاگل نہ سمجھے تو ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے اندر کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے۔ہم پاگل ہی سہی لیکن ہم پر عشق کی مستی کا جنون سوار ہے اور ہمارا یہ عشق اپنے قادر و توانا خدا کے ساتھ اور اس حسین ترین ہستی کے ساتھ ہے جسے دنیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نام سے یاد کرتی ہے۔آج کی دنیا نہ خدا کو پہچانتی ہے نہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی ہے۔دنیا کی نگاہ میں ایک پاگلوں کی یہ چھوٹی سی جماعت ہے جو بڑے بڑے عقل مندوں میں کھڑے ہو کے بھی یہ اعلان کر دیتی ہے کہ ساری دنیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔ہمارے سارے مبلغ ایسا کرتے ہیں۔مجھے مختلف ملکوں کے دورے کرنے کی توفیق ملی۔بغیر جھجک کے میں نے یہ اعلان کیا اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی میرے دل میں گھبراہٹ نہیں پیدا ہوئی۔جب میں انہیں یہ کہتا تھا کہ خدا نے یہ کہا ہے کہ تمہارے دلوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جیت لیا جائے گا اور ایسا ہو کر رہے گا۔اس میں شک نہیں کہ وہ حیران ہو کر دیکھتے تھے مگر ان کی حیرانیاں تو ویسی ہی ہیں جیسی کہ رؤسائے مکہ کی حیرانیاں تھیں اور اسلام کی کامیابیاں اور غلبہ ویسا ہی ہے جیسا کہ اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے چند ساتھیوں کو جو دنیا کے دھتکارے ہوئے تھے اپنے فضل اور اپنی رحمت اورا اپنی قدرت کے جلووں کے نتیجے میں غالب کر دیا تھا۔پس جس شہر میں تم آباد ہو اس کی بھی قدر کرو اور جس جماعت کے ساتھ تمہارا تعلق ہے اس کی بھی قدر کرو۔تمہیں خدا تعالیٰ نے خدمت کے لئے اور نوع انسانی کے دلوں کو محبت اور پیار کے