خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 250

خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۰ خطبہ جمعہ ۵ /دسمبر ۱۹۷۵ء عاجزانہ جھک کر یہ کہیں کہ اپنی بساط کے مطابق جتنا کر سکتے تھے ہم نے کر دیا۔اور ہم جانتے ہیں کہ جتنی ضرورت تھی اس کا کروڑواں حصہ بلکہ اربواں حصہ بھی نہیں ہو سکا لیکن اس سے زیادہ کی تو نے ہمیں طاقت نہیں دی۔اس سے زیادہ کی تو نے ہمیں توفیق نہیں دی، اس سے زیادہ ہم نہیں کر سکتے۔باقی تو سب کچھ خدا تعالیٰ نے آسمانوں سے کرنا ہے اور وہی کر رہا ہے۔آخر پچاسی سال میں ہم نے کیا دیکھا ہے کیا اپنی زندگیوں میں ہم نے اپنی طاقتوں اور اپنی تدبیر اور اپنے مجاہدے اور اپنی کوششوں کے نتائج دیکھے ہیں؟ نہیں ! ہم نے اپنی زندگیوں میں خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی قدرتوں کے نتیجے دیکھے ہیں۔پس جو ذمہ داریاں ہیں چھوٹی ہوں یا بڑی ان کو سمجھو۔پہلے ان کو سمجھو گے تو پھر تبلیغ کر سکو گے اور آپ پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ہماری کیا حقیقت ہے ہمارا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا قیام اور خدا تعالیٰ کی توحید کا قیام ہے اس دنیا میں کہ جو اتنی متکبر ہو گئی تھی کہ اس نے یہ اعلان کیا کہ دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے لیکن ہمارے کان میں یہ آواز آئی کہ ان ممالک میں اتنی کثرت سے احمدی مسلمان پیدا ہو گا کہ جس طرح ریت کے ذرے نہیں گنے جا سکتے وہاں مسلمان کی تعداد بھی حساب دان شمار نہیں کر سکیں گے۔یہ وعدے تو پورے ہوں گے لیکن اس کے لئے ہم نے چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب کام کرنے ہیں یہ نہیں کہ بڑا کام کرنا ہے اور چھوٹا نہیں کرنا۔ہم اپنی سیری کے لئے پہلا لقمہ بھی کھاتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ تین روٹیاں اکٹھی کھالیں گے اور پہلا لقمہ نہیں کھائیں گے۔پس ہماری ساری کوششیں مل کر نتیجہ نکلے گا۔ہماری بالکل عاجزانہ حالت ہے۔بے بسی کی حالت ہے، بے کسی کی حالت ہے۔دنیا کے دھتکارے ہوئے ہیں لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ہم نے تو اپنے رب سے ایک عہد کیا ہے کہ جو ہمارے پاس ہے وہ ہم تیرے حضور پیش کر دیں گے اور ہم یہ توقع رکھتے ہیں ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ جو تیرے پاس ہے ( اور تیرے پاس سب کچھ ہے ) وہ تو دنیا کو دکھائے گا اور اسلام کو دنیا میں غالب کرے گا۔یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ربوہ کے ماحول کو پاک کرو، پاکیزہ رکھو، درخت لگاؤ یہ اپنے لئے