خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 247
خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۵ /دسمبر ۱۹۷۵ء ربوہ کی جو حیثیت ہے دنیا میں مکہ اور مدینہ کے بعد ان کی تو شان ہی اور ہے اور پھر قادیان کے بعد کسی اور جگہ کی وہ حیثیت نہیں ہے۔مکے کا مقام تو بہت بلند ہے مکے کا مقام ایک عظیم ابراہیمی معجزہ کی وجہ سے اور حج کی وجہ سے جو کہ ہماری بنیادی عبادات میں سے ایک عبادت ہے بہت بلند ہے۔مکے کے متعلق جو ذمہ داریاں ہیں ان کے متعلق قرآن کریم نے بہت کچھ کہا ہے۔اہل مکہ میں سے کچھ لوگ ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے لیکن اس وقت میرا یہ مضمون نہیں ہے اور مدینہ منورہ کا مقام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے بہت ہی بلند ہے۔جس طرح کے کے گلی کوچوں سے ہمیں پیار ہے مدینے کے تو ذرے ذرے پر ہماری جان فدا ہے اور پھر ان دو مقامات کی روح کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے مہدی علیہ السلام کے ذریعے قادیان میں ایک بنیا درکھی گئی۔پس اس وجہ سے کہ قادیان میں مہدی علیہ السلام کے ذریعے مکے اور مدینے کی روح کو ساری دنیا میں قائم کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے ہمیں قادیان سے بھی پیار ہے اور پھر وہ جماعت جس نے آج اس روح کو قائم کرنا ہے اس کا مرکز اس وقت ربوہ میں ہے۔بہت سے اہل ربوہ ربوہ کے مقام کو اور اس مقام کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے اور اس طرف توجہ نہیں کرتے۔وہ ایک حد تک معذور بھی ہیں کیونکہ ہم لوگ ان کو یاد نہیں دلاتے اور ہم فذكر (الاعلی :۱۰) پر عمل نہیں کرتے۔ان کو بتانا چاہیے کہ یہ اتنی زبر دست چیز ہے کہ انسان کا دماغ اس کو اپنے تصور میں نہیں لاسکتا یعنی دنیا میں اتنا بڑا اعلان ہو گیا کہ ساری دنیا کو انواع انسانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے گا۔بظاہر یہ انہونی بات ہے دنیا کی عقل اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں لیکن وہ جو خدائے واحد و یگانہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیاں جن کا اس زمانہ کے ساتھ تعلق ہے وہ ضرور پوری ہوں گی۔آپ کی وہ پیش گوئیاں جو قرآن کریم میں بیان ہوئیں یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ وحی جو قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں ملی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے جو پیش خبر یاں ہمارے تک پہنچیں وہ پوری ہو کر رہیں گی۔اس واسطے ساری دنیا ہمیں بالکل پاگل سمجھتی ہے اور اپنی عقل کے لحاظ سے