خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 246 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 246

خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۵ /دسمبر ۱۹۷۵ء آدمی ہوتے ہیں۔اس لئے اس وقت کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے لیکن جور بوہ کے احمدی مکین ہیں ان کے متعلق ہم آج بھی کہہ سکتے ہیں اور اس وقت بھی کہتے تھے اور سننے والے کے لئے یہ بات حیرانی کا باعث بنتی تھی کہ ایک غریب جماعت جس کی غربت کی حالت اس کے مکانوں سے ظاہر ہے اور اس کے مکینوں کے کپڑوں سے ظاہر ہے۔جہاں تک ہماری بچیوں کا سوال ہے سو فیصد بچیاں پڑھی لکھی اور Literate (لٹریٹ) ہیں اور جہاں تک بچوں کا سوال ہے وہ ۹۸ فیصد پڑھے لکھے ہیں۔اب بچوں کو شرم تو آئے گی مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ دو فیصد کھسک جاتے تھے۔اب تو مجھے پتہ نہیں لیکن اس وقت وہ دو فیصد کھسک جاتے تھے اور پڑھنا چھوڑ دیتے تھے۔بہر حال ایک ایسے ملک میں جہاں Literacy (لٹریسی ) بڑی تھوڑی ہے وہاں پر آپ ربوہ کو علمی لحاظ سے ایک چھوٹا سا جزیرہ سمجھ لیں۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی برکت دی ہے۔اللہ تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ فضلوں کو حاصل کرو جن کا پاکیزگی کے ساتھ تعلق ہے اور پاکیزگی کا تو تبلیغ کے ساتھ بھی بڑا تعلق ہے چنانچہ قم فَانْذِرُ کے بعد کہا وَ ثِيَابَكَ فَطَهَّرُ (المدثر : ۵،۳) اس لئے جب تک انسان اپنے ماحول کو پاکیزہ نہیں کرتا اور آنے والوں اور دیکھنے والوں کے لئے اسے ایک نمونہ نہیں بنا تا اس وقت تک وہ صحیح معنی میں صحیح طور پر صحیح رنگ میں تبلیغ بھی نہیں کر سکتا اور نہ انذار کر سکتا ہے۔آپ لوگ ربوہ کو صاف رکھا کریں اور جلسہ سے پہلے تو اس کو ایک غریب دلہن کی طرح بنا دیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ربوہ کو سونے کے کڑے پہناؤ میں یہ کہتا ہوں کہ اس کو ایک غریب دلہن کی طرح صاف ستھرا بنا دو۔اسی میں ہماری شان ہے شو میں ہماری شان نہیں ہے۔یہ جو چار پودوں کا ہم نے جرمانہ کیا ہے میں نے اپنے آپ پر بھی کیا ہے اور ویسے تو سارا ربوہ ہی ذمہ دار ہے لیکن جو اس چوک کے ارد گرد رہنے والے مکین یا محلے ہیں ان کی ذمہ داری زیادہ ہے ایک دو دن کے اندر خدام الاحمدیہ اس کا انتظام کرے اور مجھ سے بھی ایک پودا یا اس کی قیمت لے کر اور باقی پودے بھی لے کر ان کو جلد دے دیں تا کہ ان کومل جائیں جنہوں نے وہاں لگائے تھے۔