خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد ششم ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۷۵ء اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بنیں۔یہ ہے دعوت الی اللہ اور جو شخص بھی قولی ، اعتقادی اور عملی لحاظ سے خود ایمان باللہ سے متصف ہو کر دوسروں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور یہ عرض کر سکے کہ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ایمان باللہ پر خود قائم ہو کر دوسروں کو ایمان باللہ کی دعوت دینے کی اہمیت و عظمت واضح کرنے کے بعد حضور نے اللہ تعالیٰ کی غیر محدود صفات میں سے بعض ایسی صفات کا ذکر فرمایا جن کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہے نیز اس صفت کا ذکر فرمایا کہ وہ دعاؤں کو سننے والا ہے۔چنانچہ اس ضمن میں حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق جو بات اس وقت میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں قبول کرتا ہے، سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) ( مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا ) اسی طرح سورۃ البقرۃ میں اس نے فرما یا أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: ۱۸۷) ( جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں) لیکن دعا کی قبولیت کے بارہ میں یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ جب دعا اس کی تمام شرائط کے ساتھ کی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی تمام حکمتوں کے ساتھ اسے قبول کرتا ہے۔یعنی ضروری نہیں کہ دعا اسی طرح قبول ہوجس طرح بندہ مانگتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ اس کی دعا کو اس شکل میں قبول کرتا ہے جو دعا کرنے والے کے حق میں بہتر ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دعا کرنے والے کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔پس دعا قبول ضرور ہوتی ہے لیکن ہوتی اس شکل میں ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں دعا کرنے والے کے لئے بہتر ہو نہ کہ اس شکل میں جس میں بندہ اپنی نادانی سے اس کے پورا ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔پھر سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: ۶۳) یعنی بتاؤ کون کسی بے کس کی دعا کو سنتا ہے جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔ویکشف السوء میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب بشارت دی ہے اور وہ یہ کہ تم دعا کرتے چلے جاؤ ایک دن وہ ضرور قبول ہوگی۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان مضطر ہونے کی حالت میں دعا مانگے اور وہ قبول نہ ہو۔مضطر کی دعا کی قبولیت ایک نہ ایک