خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 148

خطبات ناصر جلد ششم ۱۴۸ خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۷۵ء نہیں کہ انسان لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔اس کے بعد حضور نے یہ واضح فرماتے ہوئے کہ اس آیت کریمہ میں قول سے کیا مراد ہے فرمایا۔یہاں قول سے مراد ظاہری الفاظ بھی ہیں، اعتقاد بھی اور اعتقاد کے مطابق کئے جانے والے اعمال بھی کیونکہ قول کا لفظ قرآن کریم میں ظاہری الفاظ اعتقاد اور عمل تینوں پر بولا جاتا ہے۔اسی لئے حقیقی مومن وہی کچھ زبان سے کہتا ہے جس پر اس کا پختہ اعتقاد ہوتا ہے اور پھر اس کا عمل بھی اس اعتقاد کے عین مطابق ہوتا ہے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس امر کی پرواہ کئے بغیر کہ دوسرے اسے کیا کہتے ہیں یا کیا نہیں کہتے خود کہے إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ایسا قول توجس کے ساتھ نہ اعتقاد ہو اور نہ عمل منافق کا قول ہوتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی قابل التفات نہیں ہوتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قول بے عمل کا کھوکھلا پن ظاہر کرنے کے لئے منافقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے وَ اِذَا جَاءُوكَ حَيْرُكَ بِمَا لَمْ يُحَيْكَ بِهِ اللَّهُ وَ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللهُ بِمَا نَقُولُ - (المجادلة: 9) یعنی اے رسول ! جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ایسے لفظوں سے دعا دیتے ہیں جن میں خدا نے دعا نہیں دی۔مراد یہ کہ دعا میں بناوٹ کے طور پر مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور پھر اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ کیوں اللہ ہمارے منافقانہ قول کی وجہ سے ہمیں عذاب نہیں دیتا۔اسی لئے قرآنی محاورہ کی رُو سے قول احسن وہی قول ہوگا جس میں ظاہری الفاظ صحیح عقیدہ اور عمل تینوں شامل ہوں۔یہ معنے امام راغب نے مفردات میں کئے ہیں اور استدلال انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت سے کیا ہے الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷) انہوں نے اس آیت سے استدلال کر کے قول احسن میں اقرار، اعتقاد، اور عمل تینوں کو شامل کیا ہے۔قول احسن کے معنے بالوضاحت بیان کرنے کے بعد حضور نے دعا إلی اللہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرما یا قولِ احسن کے ان معانی کی رو سے دعا الی اللہ کے معنے ہوں گے خود قولی ، اعتقادی اور عملی لحاظ سے ایمان باللہ سے متصف ہو کر دوسروں کو خدا کی طرف بلانا، یعنی انہیں اس امر کی دعوت کرنا کہ وہ صحیح اعتقاد پر قائم ہو کر اعمال صالحہ بجالا ئمیں اور اس طرح اس کی ناراضگی سے بچیں