خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 150

خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۰ خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۷۵ء دن ظاہر ہو کر رہتی ہے یعنی اس کی تکلیف بہر حال دور کر دی جاتی ہے۔پس السوء کا دعاؤں کے نتیجہ میں دور کیا جانا مومنوں کے دل کا مستقل سہارا ہے۔اسی ضمن میں اس امر کو واضح کرتے ہوئے کہ بعض دعائیں ایسی ہوتی ہیں جن کا ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد پورا ہونا مقدر ہوتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مومنوں کی جماعت نسلاً بعد نسل دعائیں کرتی چلی جائے۔حضور نے فرما یا ایسی ہی دعاؤں میں سے ایک دعا تمام بنی نوع انسان کے امتِ واحدہ بننے سے تعلق رکھتی ہے۔چنانچہ تیرہ سو سال سے امت مسلمہ اس کے لئے دعائیں کرتی چلی آرہی تھی۔آخر حسب وعدہ الہی بعثت مسیح موعود کا زمانہ آ گیا جس میں اس دعا کا پورا ہونا مقدر تھا۔میں اور آپ خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کو شناخت کرنے اور قبول کرنے کی توفیق ملی ہے اور ہمیں تمام بنی نوع انسان کے دل جیت کر انہیں امت واحدہ بنانے کی غرض سے قربانیاں پیش کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دنیا کو اللہ کی طرف دعوت دیتے چلے جائیں اور ایسے نہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں ہم عرض کر سکیں اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ اسلام تمہارے ذریعہ سے نوع انسانی کے دل جیتے گا اور دنیا پر غالب آکر انہیں اُمتِ واحدہ میں تبدیل کر دکھائے گا۔رہیں اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات سو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ اعلان کیا ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں گی اور اس کے نتیجہ میں تم وَيَكْشِفُ السُّوءَ کا نظارہ دیکھتے چلے جاؤ گے۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دعائیں کرتے چلیں جائیں اور دعوت الی اللہ اور إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ کی رُو سے اس امر کا ثبوت دیتے چلے جائیں کہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں، اپنے وعدے کے مطابق تکالیف اللہ تعالیٰ خود دور کرتا چلا جائے گا۔ہمارے ذریعہ سے تمام بنی نوع انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے لیکن اس کے لئے ہمیں تو گل کے اعلیٰ مقام پر قائم ہو کر قربانیاں دینی ہوں گی اور دعائیں کرنا پڑیں گی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں وہ الگ ہو جا ئیں خدا انہیں خود جماعت سے کاٹ دے گا۔بچے گا وہی جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن کو تھامے گا