خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 142
خطبات ناصر جلد ششم ۱۴۲ خطبه جمعه ۲۹ /اگست ۱۹۷۵ء اس کی وجہ یہ ہے کہ جس بچہ کو اللہ تعالیٰ ذہن رسا عطا کرتا ہے اس کی ذہنی نشو وارتقاء کی ذمہ داری خود اس بچہ پر بھی عائد ہوتی ہے اور نظام جماعت پر بھی۔بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ذہین پیدا کرتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ غفلتوں ، بد عادتوں یا بدصحبتوں کے نتیجہ میں اپنی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اس طرح وہ ان ترقیات سے محروم رہ جاتے ہیں جو انہیں یقینا مل سکتی تھیں بلکہ وہ جماعت اور قوم کو بھی اس فائدہ سے محروم کر دیتے ہیں جو ان کی خداداد ذہنی صلاحیتوں کی صحیح نشو ونما کی صورت میں اسے پہنچ سکتا تھا۔اس لیے ہر احمدی بچے کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کی پوری مستعدی کے ساتھ نشو ونما کرتا رہے۔اگر کوئی بچہ ایسا ہے جو اپنی ذہنی استعداد کی نشو نما نہیں کرتا تو وہ اپنے نفس کا بھی گناہ گار ہے اور جماعت کا بھی مجرم ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ وہ احمدی بچوں کو بڑے اچھے ذہن عطا کر رہا ہے۔جہاں ہمارے بچے مختلف امتحانات میں اعلیٰ کا میابیاں حاصل کر رہے ہیں وہاں ہماری بچیاں بھی تعلیمی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ احمدی بچی بی۔ایس۔سی کے امتحان میں اول آئی۔ویسے اول آنا ایک اعزاز ہونے کے باوجودا تفاقی امر ہوتا ہے۔دراصل ہر سال ایک کلاس اور درجہ سے تعلق رکھنے والے تیس چالیس طلباء اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ کم و بیش ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکا کسی ایک پرچے میں سب کچھ جاننے کے باوجود کسی نہ کسی وجہ یا کسی وقتی اثر کے ماتحت پورے سوالوں کا جواب لکھ نہیں پاتا جبکہ دوسرالڑ کا سارے سوالوں کا جواب لکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔وہ جس نے سارے سوالوں کا جواب لکھا تھا اول قرار پاتا ہے جبکہ دوسرا لڑکا اس اعزاز کو حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے لیکن دونوں ذہنی استعداد کے لحاظ سے ہوتے ہیں ایک ہی سطح پر۔سو اول آنے کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہے جتنی اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ جن بچوں کو اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں ان کی بہر حال نشو ونما ہونی چاہیے اور ان کی نشوونما کی ذمہ داری خود بچوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور جماعت پر بھی۔