خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 143
خطبات ناصر جلد ششم ۱۴۳ خطبه جمعه ۲۹ /اگست ۱۹۷۵ء اگر ہمارے نوجوان طالب علم میٹرک ، ایف۔ایس سی ، بی۔ایس۔سی ، ایم۔اے اور ایم۔ایس سی وغیرہ امتحانات میں آگے نکلنے کی کوشش کریں تو وہ بازی لے جاسکتے ہیں اور ذہنی نشوونما کے سلسلہ میں ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسے ادا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اگر بعض لڑ کے بازی نہ بھی لے جاسکیں تو ان کی اس کوشش کا یہ نتیجہ تو بہر حال نکلے گا کہ اس طرح ان کی ذہنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما ہوتی رہے گی اور وہ جماعت اور قوم و ملک کے لئے مفید وجود بن سکیں گے۔اگر ہم بین الا قوامی سطح پر ستر پچھتر فیصد سے او پر نمبر لینے والے دو تین سو بچے پیدا کرنے لگیں تو اس کا بہت اثر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بہت اچھے نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ احمدی بچے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں دوسرا ضروری امر یہ ہے کہ جماعتی سطح پر اس امر کی کوشش کی جائے کہ کوئی بچہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذہنی دولت عطا کی ہے جماعت اس دولت کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔ایسے بچوں کی ذہنی نشوونما ضروری ہے اور یہ نشو ونما نہیں ہو سکتی جب تک کہ دو طرفہ کوشش بروئے کار نہ لائی جائے۔اوّل یہ کہ بچے اپنی ذہنی استعدادوں اور صلاحیتوں کو ضائع کر کے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کے مرتکب نہ ہوں اور اس طرح نہ اپنا نقصان کریں نہ جماعت کا نقصان کریں اور نہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا موجب بنیں۔دوسرے یہ کہ جماعتی سطح پر ایسا انتظام ہونا چاہیے کہ کوئی ایک ذہن بھی ترقی کرنے سے رہ نہ جائے۔انگلستان میں اب ایک بڑی جماعت بن چکی ہے۔یہاں کے حالات کے مطابق ایک کمیٹی بن جانی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لیتی رہے کہ بچوں کی ذہنی نشو و نما اور ترقی خاطر خواہ طریق پر ہورہی ہے یا نہیں اور اگر نہیں ہو رہی تو کیا اقدامات ضروری ہیں۔اگر صحیح خطوط پر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بچوں کی ذہنی نشوونما کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکے۔بہر حال ساری جماعت میری اس نصیحت کو یا در کھے اور عہد کرے کہ کوئی ایک ذہن بھی ضائع نہیں ہوگا نہ بچہ کی اپنی غفلت کی وجہ سے اور نہ جماعت کی غفلت کی وجہ سے۔