خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 117

خطبات ناصر جلد ششم ۱۱۷ خطبه جمعه ۱/۴ پریل ۱۹۷۵ء کریں اور در حقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمُ (ال عمران : ۳۲) از روئے مفہوم کے ایک ہی ہیں کیونکہ کمال اتباع اُس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔یہی ستر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الہی بننے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُلُ يُعِبادی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ يَا مُتَّبِعِی یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہور ہے ہو ، رحمت الہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جلشانہ بہ برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقق شرط ایمان اور بغیر تحقیق شرط پیروی تمام مشرکوں اور 66 کافروں کو یونہی بخش دیوے۔ایسے معنے تو نصوص بینہ قرآن سے صریح مخالف ہیں۔“ اس کے بعد میں جو حصہ عبارت پڑھوں گا اس میں جماعت کے لئے نصیحت ہے۔اس لئے اس حصہ کو بھی تو جہ سے سننا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کے نباہنے کی اور آپ کی کامل اتباع کی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندرتا کہ ہمیں نو رایمان اور محبت الہی اور عشق رسول کی توفیق ملے اور غیر اللہ سے ہم رہائی پائیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل وجان سے تیرے یا رسول اللہ کے غلام بن جائیں گے اُن کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی اُن کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے آنا الحاشر الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ على قَدَمِن یعنی میں وہ مردوں کو اُٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اُٹھائے جاتے ہیں۔واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورہ سے بھرا پڑا ہے کہ