خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 118 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 118

خطبات ناصر جلد ششم ۱۱۸ خطبه جمعه ۱/۴ پریل ۱۹۷۵ ء دنیا مر چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے:۔اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: ۱۸) یعنی اس بات کوشن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے پھر اُسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلة: ٢٣) یعنی اُن کو روح القدس کے ساتھ مدد دی اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قو تیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔۔۔اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اُس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں روح القدس کے توسط سے ایک زندگی انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم بڑے زور وشور سے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ حاصل ہونے والی وہ حیات روحانی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں ذکر کر رہے ہیں رُوح القدس کے توسط سے انسان کو ملتی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیاتِ روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں جن میں اس حیات کی روح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قولی ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں۔یہ حکم ہے جماعت احمدیہ کے احباب کو مردوں کو بھی اور مستورات کو بھی بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں اور اس عقیدہ کے مطابق انتہائی کوشش کریں کہ جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کامل استعدادوں کے مالک تھے اور استعدادوں کی کامل نشوونما خدائے رحیم کے فضل سے پانے والے تھے اسی طرح آپ کی متابعت اور آپ کی پیروی اور آپ