خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 116

خطبات ناصر جلد ششم ١١٦ خطبه جمعه ۱/۴ پریل ۱۹۷۵ ء ط أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر : ۵۴) یعنی کہہ اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو۔خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔اب اِس آیت میں بجائے قُل لِعِبَادَ اللہ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو۔یہ فرمایا کہ قُل يُعِبادِی یعنی کہہ کہ اے میرے غلامو! اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جولوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں اُن کو تسکین بخشے۔سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں سو اُس نے قُلْ يُعِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اُس کا ہے۔جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اُس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اُس کی طاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اُس کا غلام ہے۔تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنہگار تھا بخشا جائے گا۔جاننا چاہیے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَلَعَبدُ مُؤْمِنْ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ (البقرة : ۲۲۲) اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اُس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اُس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔اس مقام میں اُن کور باطن نام کے موحد وں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہاں تک بغض رکھتے ہیں کہ اُن کے نزدیک یہ نام کہ غلام نبی ، غلام رسول، غلام مصطفی ، غلام احمد ، غلام محمد شرک میں داخل ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آ جائے اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا